جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

شوبز میں ریپ یا زبردستی نہیں بلکہ سب کچھ رضامندی سے ہوتا ہے : اداکارہ شلپا شندے

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

ممبئی(این این آئی)بھارت میں ان دنوں جہاں ‘می ٹو’ مہم اپنے عروج پر ہے، جس کے تحت کئی خواتین اور اداکارائیں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے واقعات سامنے لا رہی ہیں۔وہیں ٹی وی کی معروف اداکارہ شلپا شندے نے ایک حیران کن انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔بگ باس 11 کی فاتح 41 سالہ شلپا شندے نے بھی اگرچہ ایک سال قبل ایک ڈرامہ پروڈیوسر پرہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم اب وہ کہتی ہیں کہ شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی۔ بھارتی نشریاتی ادارے ‘ٹائمز ناؤ‘ سے خصوصی بات کے دوران شلپا شندے نے بولی وڈ میں جاری ‘می ٹو’ مہم پر کھل کر بات کرتے ہوئے ان اداکاراؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اب اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔شلپا شندے کا کہنا تھا کہ یہ عمل بلکل غلط ہے کہ جب خواتین کوہراساں کیا گیا، تب وہ خاموش رہیں اور اب کافی دیر بعد بول رہی ہیں۔متنازع اداکارہ اور ڈانسر کا کہنا تھا کہ خواتین کو اپنے ساتھ نازیبا واقعات کے خلاف اس وقت ہی آواز اٹھانی چاہیے، جب وہ متاثر ہوں، جس طرح انہوں نے ایک سال قبل اس وقت آواز اٹھائی تھی جب انہیں پروڈیوسر نے ہراساں کیا، لیکن اب وہ ماضی کے قصے کو دوبارہ نہیں دہرا رہیں۔شلپا شندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں آنے والی نئی لڑکیوں کو جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، تاہم وہ اس دوران یہ سمجھ نہیں پاتیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟شلپا شندے کے مطابق انہوں نے کئی ایسی نئی لڑکیوں کو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں دیکھا ہے جو کیریئر کے آغاز میں انتہائی مختصر کپڑے پہن کر ڈائریکٹر و پروڈیوسرز کے پاس جاتی ہیں۔شلپا شندے نے دعویٰ کیا کہ بولی وڈ میں کوئی ‘ریپ‘ یا زبردستی نہیں ہوتی، تمام باتیں ایک سمجھوتے کے تحت ہوتی ہیں۔شلپا شندے کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں سمجھوتے کے تحت ‘کچھ لو اور کچھ دو’ کی بنیاد پر چیزیں ہوتی ہیں۔اداکارہ کے مطابق ریپ اورہراساں کے الزامات لگانے والی اداکاراؤں کو اس وقت آواز بلند کرنی چاہیے جب ان کے ساتھ نازیبا واقعہ ہو، بعد میں بات کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی تنازع کو جنم دے رہی ہیں اور لوگ ان کا اعتبار بھی نہیں کریں گے۔شلپا شندے نے یہ اعتراف بھی کیا کہ شوبز انڈسٹری کوئی بہت ہی اچھی نہیں ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اتنی بری بھی نہیں ہے، جتنا اس خراب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…