منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت خارجہ نے بیرون ملک سفارتخانوں کےلئے 12 ارب سے زائد کا بجٹ مانگ لیا

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت خارجہ نے آئندہ مالی سال 2015-16 کےلئے بیرون ملک سفارت خانوں کےلئے 12 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مانگ لیا ہے، جبکہ وزارت خارجہ کی سفارش پر وزارت خزانہ نے غیر فعال سفارتخانوں کو بند کرنے کی ہدایت کر دی ۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق بین الاقوامی ممالک سے تعلقات قائم کرنے کے لئے پاکستان نے دنیا کے 109 ممالک سفارتی مشنز بنا رکھے ہیں جن کو متعلقہ ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں ۔ وزارت خارجہ نے رواں مالی سال 2014-15 میں بیرون ملک سفارتخانوں کی انتظامی اخراجات کی مدد میں ( 10877606000) دس ارب ستاسی کروڑ چھہتر لاکھ چھ ہزار روپے کی رقم مختص کی تھی لیکن آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے وزارت خارجہ نے بیرون ملک سفارتخانوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے 12 ارب روپے سے ز ائدکے لئے وزارت خزانہ کو سفارش کی ہے ۔ اس وقت 109 ممالک میں سفارتخانے قائم ہیں ۔ براعظم امریکہ میں 7 ، براعظم ایشیاءمیں 38 ، یورپ میں 24 ، براعظم آسٹریلیا میں 2 سفارتخانے متعلقہ ملک سے پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے میں مصروف ہیں ۔ وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق رواں سال میں پاکستانی سفارت مشن امریکہ م¶ں مختلف سفارتی مشنز کے لئے ایک ارب کے قریب رقم مختص کی گئی ہے ۔ ماسکو کے سفارتخانے کے لئے ( 195241000 ) انیس کروڑ باون لاکھ اکتالیس ہزار، ، دبئی میں سفارتخانہ کے لئے ( 167164000 ) سولا کروڑ اکتہر لاکھ چونسٹھ ہزار روپے ، جنیوا کے سفارتی مشن کے لئے ( 293403000 ) انتیس کروڑ چونتیس لاکھ تیس ہزار روپے ، بھارت میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے لئے اخراجات کی مدد بھی ( 298966000 ) 29 کروڑ 89 لاکھ 66 ہزار روپے مختص کئے گئے ۔ بیرون ملک سفارتخانوں میں موجود پاکستان کے برطانیہ میں موجود سفارتی مشن کے لئے اخراجات کی مدد میں 33 کروڑ 20 لاکھ 88 ہزار روپے کی رقم رکھی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لئے سفارتخانوں کے انتظامی اخراجات کی مد میں اضافے کی سمری بجھوائی گئی ہے جس پر وزارت خزانہ نے بیرون ملک میں موجود غیر فعال سفارتخانوں کو بند کرنے اور سفارتی عملے اور انتظامی اخراجات میں کمی کے لئے کہا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…