پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ نے قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا دی مگر اس بار اسمبلی کا اجلاس شہباز شریف کیلئے نہیں بلکہ کس کام کیلئے بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی گئی ہے، حکومت کو بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) مسلم لیگ(ن ) نے قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلانے کیلئے زیکوزیشن جمع کرا دی، ریکوزیشن آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے مذاکرات اور بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے معاملات زیر بحث لانے کے لیے جمع کرائی گئی ہے، ریکوزیشن پر ن لیگ کے 87ارکان قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں، پیپلزپارٹی نے بھی آئی ایم ایف

سے قرضہ لینے کے معاملے پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا ئی ہے۔جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلانے کے لئے ریکوزیشن جمع کرا دی۔ ریکوزیشن آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے مذاکرات اور بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے معاملات زیر بحث لانے کے لیے جمع کرائی گئی ہے ریکوزیشن پر ن لیگ کے 87ارکان قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔مسلم لیگ ن کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلانے کے لیے ریکوزیشن قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔۔قواعد کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر اسپیکر قومی اسمبلی 14روز میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔ اجلاس طلب ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی شرکت کے لیے سپیکر سے رابطہ کیا جائے گا۔ادھر پیپلزپارٹی نے بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے معاملے پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا تشویشناک ہے، حکومت کے غیر واضح اقدامات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اربوں روپے کا نقصان ہوا، آئی ایم ایف کی متوقع شرائط سے بھی قوم کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ ایوان کو بتایا جائے کہ متوقع شرائط سے عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…