بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کےلئے ڈیڈ لائن ختم

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی ایکشن پلان کے تحت موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کروانے کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر اب کوئی غیرتصدیق شدہ سم ممکنہ تخریب کاری میں استعمال ہوئی تو اس کی ذمہ دار اس کی سیلولر کمپنی ہوگی۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کی مدت میں 15 مئی تک کی توسیع کی تھی جو گزشتہ رات ختم ہوگئی ہے۔ مےڈےا رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ غیر تصدیق شدہ سم دہشت گردی کے کسی واقعے میں استعمال ہوئی تو اس سیلولر کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ملک بھر میں اب تک سات کروڑ موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مکمل ہوا ہے، جبکہ دو کروڑ غیر رجسٹرڈ سمز کو بلاک کردیا گیاواضح رہے کہ پی ٹی اے نے اس سے قبل موبائل سمز کی تصدیق کے لیے 12 مئی تک کا وقت دیا تھا۔واضح رہے کہ پی ٹی اے حکام نے غیرتصدیق شدہ سمز کی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے صارفین کو ایک موقع اور فراہم کرتے ہوئے انہیں مزید مہلت دے دی تھی۔پی ٹی اے نے کہا تھا کہ ایسی تمام سمز جو کہ غیر تصدیق شدہ ہیں بند کردی جائیں گی۔پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مقامی موبائل نمبرجاری رکھنے کی درخواست کی تھی، جس کے باعث مذکورہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ادارے کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے سمز کی رجسٹریشن کے لیے کہا جائے گا اورصارفین کو چاہیے کہ ایس ایم ایس ملتے ہی سم رجسٹریشن کروالیں۔پی ٹی اے کے مطابق اس وقت تک 7 کروڑ 20 لاکھ سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کی جا چکی تھی اور یہ سمز 4 کروڑ 60 لاکھ شناختی کارڈز پر جاری ہوئیں۔یاد رہے کہ موبائل فون سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل جنوری میں قومی ایکشن پلان کے تحت شروع ہوا تھا جس کا پہلا مرحلہ 26 فروری کو مکمل ہوا، جبکہ دوسرا مرحلہ 14 اپریل کو مکمل ہونا تھا تاہم اس کی ڈیڈ لائن میں 15 مئی تک کا اضافہ کیا گیا تھا۔ٹیلی کام آپریٹرز موبی لنک، یوفون، ٹیلی نور، زونگ اور وارد نے حکومتی ہدایت پر تیرہ جنوری کو سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کا عمل شروع کیا تھا تاکہ ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کو ممکن بنایا جاسکے۔پی ٹی اے کے مطابق ملک میں موبائل فون صارفین کی تعداد چودہ کروڑ تک پہنچ چکی ہے جن میں سے دس فیصد کے پاس پوسٹ پیڈ کنکشنز ہیں جن کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ ان کی بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے دوبارہ تصدیق کی ضرورت نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…