جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

زینب کے قتل میں ملوث مجرم عمران کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، کوٹ لکھپت جیل میں کون کون موجود تھا،میت لینے کون آیا؟جانئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(آن لائن)قصور میں 6سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کرنے والے مجرم عمران علی کو انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مجسٹریٹ عادل سرور کی موجودگی میں تختہ دار پر لٹکایا گیا جہاں زینب کے والد محمد امین ان کے دو چچا اور ایک ماموں بھی موجود تھے۔

لاہور میں مجرم عمران علی کو تختہ دار پر لٹکانے کے بعد زینب کے والد محمد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کے تقاضے پورے ہوئے ہیں تاہم سرعام پھانسی دی جاتی تو مجرم عمران عبرت کا نشان بن جاتا، میڈیا نے ہماری آواز کو بلند کیا۔زینب کے والد کا کہنا تھا کہ آج زینب 7 سال 2 ماہ کی ہوئی، مجرم کو پھانسی زینب کی ایک چیخ کے برابر بھی سزا نہیں ہے۔امین انصاری کا مزید کہنا تھا کہ انصاف کے لیے ہم چیف جسٹس پاکستان کے شکرگزار ہیں زینب کی ماں تا حال شدید صدمے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا پر کے سامنے پھانسی کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ مطالبہ منظور نہیں ہوا، عمران خان نے ریاست مدینہ کا وعدہ کیا تھا اور ریاست مدینہ کا جو تصور پیش کیا گیا تھا اسے عملی جامہ پہننانے کا سنہری موقع تھا، محمد امین انصاری کا کہنا تھا کہ مجرم عمران کو سرعام پھانسی نہیں دینی تھی توقانون بھی ختم کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ مجرم کوسرعام پھانسی دینے کامطالبہ کیا تھا اور قاتل کوپھانسی دینے کی لائیو کوریج کا مطالبہ بھی مسترد کردیا گیا، انہون نے کہا کہ سفاک قاتل کے گھروالوں نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔اس موقع پر مجرم عمران علی کے اہل خانہ بھی جیل میں موجود تھے اور سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد جیل انتظامیہ نے عمران کی لاش اہل خانہ کے حوالے کردی اور وہ قصور روانہ ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی ان کے ہمراہ تھی۔

واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے اور زینب سمیت دیگر بچیوں کے قاتل عمران علی کو مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔پنجاب کے ضلع قصور میں جنوری 2018 میں ریپ کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی زینب کے کیس میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 17 فروری 2018 کو عمران علی پر جرم ثابت ہونے پر انہیں 4 مرتبہ سزائے موت، تاحیات اور 7 سالہ قید کے علاوہ 41 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اسی طرح عدالت نے دوسرے مقدمے کائنات بتول کیس میں مجرم کو 3 بار عمر قید اور 23 سال قید کی سزا سنائی تھی، ساتھ ہی عدالت نے مجرم کو 25 لاکھ جرمانہ اور 20 لاکھ 55 ہزار دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔قصور کی رہائشی 6 سالہ زینب 4 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پولیس نے 13 جنوری کو ڈی این اے کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی اور ملزم کو گرفتار کیا جس کے بعد 23 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں زینب کے والد محمد امین کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملزم عمران علی کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔۔بعد ازاں مجرم عمران نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عظمیٰ سے بھی مجرم عمران علی کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور 17 اکتوبر 2018 کو اس سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…