پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی ایک معروف شخصیت نے پیغام بھیجا کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں جس کے بعد چیف جسٹس نے۔۔ ۔جسٹس ثاقب نثار کس کے کہنے پر جمہوریت کے حق میں بیانات دیتے رہے، حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار حامد میر اپنے آج کے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بتا رہے تھے کہ انہوں نے پہلا از خود نوٹس 31؍ دسمبر 2016ء کو عاصمہ جہانگیر کے کہنے پر لیا تھا اور ایک بچی طیبہ پر تشدد کرنے والے با اثر افراد پر ہاتھ ڈالا تھا۔ چیف جسٹس صاحب

کہہ رہے تھے کہ میں نے عاصمہ جہانگیر جیسی بہادر خاتون آج تک نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ عاصمہ جہانگیر نے مجھے ایس ایم ظفر کا پیغام دیا کہ جمہوریت کو شدید خطرات درپیش ہیں جس کے بعد چیف جسٹس صاحب نے کھل کر یہ کہا کہ جمہوریت کے خلاف کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا۔ مجھے یاد ہے چیف جسٹس صاحب نے یہ بات ایوان اقبال لاہور میں ایک تقریب میں کہی تھی جس کا اہتمام عارف نظامی صاحب نے کیا تھا اور ناچیز بھی اسٹیج پر موجود تھا۔ اس وقت ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ چیف جسٹس صاحب جمہوریت کا دفاع کیوں کر رہے ہیں لیکن 13؍ اکتوبر کی دوپہر پتا چلا کہ انہیں عاصمہ جہانگیر نے ایس ایم ظفر کا پیغام دیا تھا۔ ایس ایم ظفر صاحب کا ذکر چیف جسٹس کی زبان سے سنا تو تجسس ہوا کہ مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ ایس ایم ظفر سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ واقعی انہوں نے عاصمہ جہانگیر سے جمہوریت کو درپیش خطرات پر بات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے چیف جسٹس کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ بات ختم ہو گئی تو کچھ دیر بعد ان کا دوبارہ فون آیا اور انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو اب فوج سے نہیں بُری گورننس سے خطرہ ہے۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں چیف جسٹس نے ایک دفعہ پھر واضح الفاظ میں کہا کہ اب صرف جمہوریت چلے گی اور آئین کے خلاف کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس پر بھرپور تالیاں

بجائی گئیں لیکن میرے اردگرد موجود کچھ سیاسی رہنما اور دانشوروں نے تالیاں نہیں بجائیں۔ ایک صاحب نے مجھے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے ہم ان کے خلاف پریس کانفرنس کریں گے۔ میں نے عرض کیا آپ جو چاہیں کریں لیکن ہم سب جس آئین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں اس کی دفعہ 19ہمیں عدلیہ کے خلاف بولنے سے روکتی ہے لہٰذا پہلے دفعہ 19میں ترمیم کا مطالبہ کیا جائے پھر باقی کام کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…