منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

اس نو جوان کو اپنی پیدائش کے بارے میں حقیقت کا پتہ چلا تو چکر کر رہ گئے

datetime 15  مئی‬‮  2015 |

 اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور اکثر تو اس بات کو محض محاورتاً ہی کہا جاتا ہے لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈیو میک ڈہورمیٹ اور سوفی کولز کی کہانی اس محارے کی خوبصورت عملی مثال ہے۔
ڈیو اور سوفی جب 16 برس کے ہوئے تو انہیں پہلی دفعہ علم ہوا کہ دونوں 14 مارچ 1989 کو لائسسٹر رائل انفرمری ہسپتال میں پیدا ہوئے اور ان کی پیدائش تقریباً ایک ہی وقت پر ہوئی تھی۔ پہلے ڈیو دنیا میں آئے اور ان کے دو گھنٹے بعد سوفی کی پیدائش بھی اسی دایہ کے ہاتھوں ہوئی جس نے ڈیو کو دنیا میں لانے کے لئے فرائض سر انجام دئیے تھے۔ دونوں کی پیدائش کے نوٹس بھی ایک ہی دن ایک ہی اخبار میں شائے کئے گئے۔ وہ دونوں ونگسٹن کے علاقے میں قریب قریب ہی رہتے تھے اور ان کے والدین نے انہیں ایک ہی پرائمری سکول اور ہائی سکول بھیجا جس کے بعد وہ دونوں ایک ہی کالج اور پھر اکٹھے لیڈز یونیورسٹی بھی گئے۔
سوفی نے اخبار ”دی مرر“ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ایک دن ڈیو نے اسے بتایا کہ وہ اپنی سولہویں سالگرہ منانے جارہا ہے تو اس نے بتایا کہ آج تو اس کی بھی سالگرہ ہے، اور اس کے بعد ان کے ایک جیسے ماضی کے حیرت انگیز انکشافات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دن کے بعد دونوں اکٹھے ہی سالگرہ مناتے رہے ہیں۔ دونوں کی سوچ میں بھی حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ سوفی بتاتی ہیں کہ بعض اوقات تو دونوں ایک دوسرے کے لئے ایک جیسے تحفے خرید لیتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ دونوں کے درمیان بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے اور وہ ڈیو کی ہر بات کو پسند کرتی ہے۔ اس نے بتایا کہ ڈیو 9 بجے جبکہ وہ 11 بجے پیدا ہوئیں لیکن ڈیو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ بڑا ہے۔
دونوں کی بچپن کی دوستی اب پیار میں بدل چکی ہے اور وہ شادی کر کے اسے عمر بھر کے تعلق میں بدل رہے ہیں۔ ڈیو اور سوفی کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی کبھار خود بھی اس بات پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر کس قدر قریب اور ایک جیسے رہے ہیں لیکن انہیں یہ بات بہت اچھی لگ رہی ہے کہ دنیا میں آنے کے 26 سال بعد وہ شادی کے بندھن میں بندھ کر ہمیشہ کے لئے ایک ہو رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…