بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان میں بیل آؤ ٹ پیکج سے متعلق مذاکرات اورسرکاری اداروں کی نجکاری کی افواہیں،حکومت اب کیا کرے گی؟ اسد عمر نے حیرت انگیزاعلان کردیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) وفاقی وزیرخزانہ اسدعمرنے کہاہے کہ حکومت پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری کاکوئی ارادہ نہیں رکھتی،تجربہ کار اور پیشہ ور افراد لاکر قومی اداروں کو ملک کیلئے منافع بخش ادارے بنایاجائے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائرناکافی تھے کیونکہ ملک کی مختلف مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہرماہ تقریباً دو ارب ڈالرخرچ ہوجاتے ہیں۔حکومت برآمدی مصنوعات میں اضافے کے لئے برآمدات میں اضافہ،

سرمایہ کاری کا فروغ اور ملک میں صنعتی ترقی چاہتی ہے۔اسدعمرنے کہا کہ قومی معیشت میں غیریقینی صورتحال اس ماہ کے وسط تک ختم ہو جائے گی کیونکہ اقتصادی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں عالمی مالیاتی ادارے کی ایک ٹیم نے پاکستان کادورہ کیا ہے تاہم اس کا بیل آؤ ٹ پیکج سے کوئی تعلق نہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ درمیانی آمدنی والے لوگوں کوصحت اورتعلیم کارڈ فراہم کئے جائیں گے تاکہ انہیں سماجی تحفظ کے دائرے میں لاکر معیاری سہولیات فراہم کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…