ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پانی کے حق کے لیے تیس ہزار کلومیٹر کی ’واک‘

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)ایک 49 سالہ جرمن شہری نے آج جمعرات کے روز تیس ہزار کلومیٹر پیدل چلنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اپنے اِس اقدام سے پانی کی تقسیم اور رسائی کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔جرمن شہری اسٹیفن فائفر کا تعلق جنوبی جرمن شہری فرائی برگ سے ہے اور وہ ایک فلاحی تنظیم ”واٹر از رائٹ “ نامی فاو¿نڈیشن سے وابستہ ہیں۔ ا±ن کا ادارہ دنیا بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور پانی تک تمام لوگوں تک مفت رسائی کے لیے سرگرم ہے۔ اپنے منصوبے کے بارے میں اسٹیفن فائفر کا کہنا تھا کہ وہ جمعے کے روز بذریعہ ہوائی جہاز فرینکفرٹ سے ناروے کے شہر نارتھ کیپ جائیں گے۔ یہ شمالی یورپ کا وہ آخری شہر ہے، جہاں سے بذریعہ سڑک یورپ کے رابطہ ممکن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ا±ن کی اِس مہم کا نام ”واک فار واٹر“ ہے اور یہ تین سالوں پر محیط ہے۔’واٹر از رائٹ ‘ دنیا بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور پانی تک تمام لوگوں تک مفت رسائی کے لیے سرگرم ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اِس طرح وہ صرف ارباب اختیار کی توجہ پانی کی مسئلے کی جانب مبذول نہیں کرانا چاہتے بلکہ وہ اِس مقصد کے لیے چندہ بھی جمع کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”پانی تک ہمیشہ رسائی ہونی چاہیے اور یہ لوگوں کے ذہنوں میں ایک اہم کردار ادا کرے گا “۔واٹر از رائٹ فاو¿نڈیشن رالف اشٹالہوفن نے قائم کی تھی۔ اشٹالہوفن ایک معروف جرمن میوزک بینڈ ’سنز آف منہائم ‘ کے رکن ہیں۔ اشٹالہوفن کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ 2025ئ تک دنیا کے تمام اسکولوں میں صرف پینے کا صاف پانی ہی دستیاب نہ ہو بلکہ تمام تعلیمی اداروں میں نکاسی آب کا موثر نظام بھی موجود ہو۔اسٹیفن فائفر اِس دوران تین مختلف براعظموں کے تیس سے زائد ممالک جائیں گے۔ ا±ن کا سفر ناروے سے شروع ہو گا جبکہ بعد میں وہ دیگر یورپی ممالک سے ہوتے ہوئے ترکی پہنچیں گے۔ اِسی طرح مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے وہ عمان جائیں گے اور ا±ن کے سفر کا اختتام جنوبی افریقہ میں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…