بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ عہدیدار جو 1995 میں بھرتی ہوا اور اب 50لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ہے ، کیا آپ جانتے ہیں یہ کون ہے ؟حیران کن نکشاف کر دیا گیا ‎

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پی ٹی آئی کی رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیاء نے جہانگیر خان ترین کی کرپشن کیس میں نااہلی سے متعلق کہا ہے کہ ملک میں جو بھی کرپشن کرے گا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔جمعہ کوسندھ اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیا نے جہانگیر خان ترین کی کرپشن کیس میں نااہلی سے متعلق اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ جو

کچھ ہوا اچھا ہوا، ملک میں جو بھی کرپشن کرے گا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ڈاکٹر سیما ضیا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ این آئی وی سی ڈی کے ڈائریکٹر ندیم قمر کس کے منظور نظر ہیں؟ وہ 1995 میں سینیئررجسٹرار کے طور پر آئے اور اس وقت ان کی تنخواہ 50 لاکھ روپے ہے، انہوں نے ایسا کیا کیا جو اتنی خطیر رقم انہیں ماہوار دی جارہی ہے اور انہیں کئی بار ری اپائینٹ کیا گیا۔ ڈاکٹرندیم قمر بغیر ٹینڈر من پسند لوگوں کو ادویات اور آلات کی خریداری کے ٹھیکے دے چکے ہیں اور ان کے خلاف نیب ریفرنسز ہیں۔انہوں نے کہاکہ سرجن ڈاکٹر ندیم رضوی دہری شہریت کے حامل ہیں، ان کے پاس پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن نہیں، وہ 6 ماہ ملک سے باہر اور 6 ماہ پاکستان میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر سمیا ضیا کے اعتراضات پر جواب دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رہنما اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ڈاکٹر ندیم رضوی اپنے صوبے کے لوگوں کی خدمت کرنے بیرون ملک سے آئے ہیں ڈاکٹرندیم قمر کی ملازمت میں توسیع کے لیے تمام قواعد پورے کیے گیے، ندیم رضوی اور ڈاکٹر ندیم قمر پر الزامات غلط ہیں۔جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی صورتحال تنائو کا شکار رہی۔ اجلاس شروع ہوا تو پیپلزپارٹی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے یکساں مطالبہ کیا گیا کہ پہلے دوسرا فریق معافی مانگے تبھی اجلاس کی کارروائی چل سکے گی۔ایوان سے خطاب میںشرجیل میمن نے کہاکہ اپوزیشن نے ابتدا کی ہے وہی معافی مانگے۔ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ حکومت کو معافی مانگنا ہو گی۔ طے کیا گیا تھا کہ اجلاس سے قبل حزب اقتدار گزشتہ روز کے بیان پر معافی مانگے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…