بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

جیم اینڈ جیولری صنعت کی بجٹ تجاویز وفاقی وزارت خزانہ کو ارسال

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) جیم اینڈ جیولری انڈسٹری نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سونے کی کمرشل امپورٹ پر عائد 5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرکے 0.5فیصد حتمی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے جیم اینڈ جیولری کے چیئرمین کاشف الرحمٰن نے بتایا کہ جیم اینڈ جیولری انڈسٹری سے متعلق جامع تجاویز ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے وفاقی وزارت خزانہ کو ارسال کردی گئی ہیں اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او اور تاجر رہنما ایس ایم منیر نے بھی ان تجاویز کو جیم اینڈ جیولری انڈسٹری کی ترقی اور ملکی برآمدات میں اضافے کیلیے معاون قرار دیتے ہوئے وزارت خزانہ سے ان تجاویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سونے کی سالانہ کھپت 200ٹن ہے جس میں سے 50 فیصد کھپت پرانے سونے کے زیورات کو ری سائیکل کرکے پوری کی جاتی ہے جبکہ سالانہ 100ٹن سونا بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔
ملک میں سونے کی کمرشل امپورٹ پر 2006-7میں ایک فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا، اس سے قبل سونے کی درآمد پر فی کلو 2500روپے امپورٹ ڈیوٹی عائد تھی گزشتہ بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر 5فیصد کردی گئی جس کی وجہ سے سونے کی کمرشل امپورٹ انتہائی محدود ہوگئی جس سے حکومت کو بھی سونے کی درآمد پر ریونیو کی وصولی انتہائی محدود ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیم اینڈ جیولری انڈسٹری کی ترقی کے لیے سونے کی درآمد پر عائد 5فیصد ودہولڈنگ کا خاتمہ اور اس کی جگہ 0.5فیصد حتمی ٹیکس کے نفاذ سے حکومت کو سالانہ 2ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا، سونے کی اسمگلنگ کا جواز ختم ہوجائے گا اس طرح خام سونے کی درآمد سے لے کر زیورات کی تیاری اور فروخت تک کے کاروبار سے ٹیکس وصول کیے جاسکیں گے۔
سونے کی درآمد کیلیے حکومت زرمبادلہ فراہم نہیں کرتی اس لیے سونے کی قانونی درآمد بڑھنے سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پربھی کوئی اثرنہیں پڑے گا بلکہ سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ پاکستان آئے گا جس سے معیشت مستحکم ہوگی۔ حکومت نے ایس آر او 760(I)2013کے تحت سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ سے حاصل ہونیوالے زرمبادلہ کا 50فیصد بینکنگ چینل سے واپس لانے کی پابندی عائد کی ہے، حقیقت میں سونے کے زیورات پر ویلیو ایڈیشن 5سے 10فیصد ہے برآمدی ترسیلات کا 50فیصد بینکنگ چینل سے لانے کی صورت میں ایک فیصد انکم ٹیکس، 0.25فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سمیت بینک چارجز بھی ادا کرنا پڑتے ہیں جن کی مجموعی شرح 2فیصد بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ میں منافع کی شرح 2 سے 4فیصد ہے اس لیے برآمدی ترسیلات بینکنگ چینل سے لانے کی صورت میں منافع کے مساوی یا پچاس فیصد منافع ٹیکسوں اور بینک چارجز کی نذر ہوجاتا ہے سونے کے زیورات کے ایکسپورٹرز100فیصد برآمدی ترسیلات پاکستان لانا چاہتے ہیں لیکن بلند لاگت اور ٹیکسوں کی بھرمار آڑے آتی ہے۔
انڈسٹری نے ا?ئندہ بجٹ کیلیے تجویز دی ہے کہ برآمدی آمدن بینکنگ چینل سے لانے کیلیے 50فیصد کی حد کو کم کرکے 5 سے 10فیصد کی سطح پر لایا جائے اور 1.25فیصد انکم ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کنٹری بیشن ختم کیا جائے تو نہ صرف ملک سے سونے کے زیورات کی برآمد میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدی ترسیلات بینکنگ چینل سے لانے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگا جس سے ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…