اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان فوج کے دو سابق سینئر افسروں نے خفیہ ادارے کے باغی کی جانب سے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کی تصدیق کر دی تاہم دونوں افسروں نے اس حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے مل کر کام کرنے کی تردید بھی کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق دونوں افسروں کا یہ بیان امریکی صحافی سیموئیر ہرش کی ایک متنازعہ رپورٹ کے بعد آیا جس میں ہرش نے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ایبٹ آباد آپریشن پرایک خفیہ معاہدہ عام کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔وائٹ ہاو س نے دو مئی کو ایبٹ آباد آپریشن سے پہلے پاکستان کو مطلع کیے جانے کے ہرش کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔آپریشن کے وقت پاکستان فوج میں اعلی عہدے پر فائز ایک ذرائع نے بتایا کہ وسائل سے مالا مال اور انتہائی سرگرم امریکہ کی مدد کرنے والاباغی درمیانے درجے کا اس اننٹیلی جنس
افسر تھا جس کی کوششیں آپریشن کامیاب بنانے میں انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔ہرش نے اپنی رپورٹ میں ایک سینئر امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شخص نے 2010میں ا س وقت اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف سے رابطہ کرتے ہوئے اسامہ تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ہرش کے مطابق پاکستانی حکام نے 2006 سے اسامہ کو ایبٹ آباد کمپاو نڈ میں نظر بند کر رکھا تھا۔پاکستان فوج کے ذرائع نے بتایا کہ باغی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا ہدف اسامہ ہیں ان سے صرف اتنا کہا گیا تھا کہ وہ القاعدہ سربراہ کو شناخت کرنے میں مدد کریں۔ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانی حکام کو تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سی آئی اے نے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کیلئے ایک مقامی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مدد سے جعلی ویکسی نیشن مہم چلائی تھی۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بتایا کہ حکومت ہرش کی رپورٹ کی تحقیقات کرنے کے بعد جلد ہی اپنا ردعمل دے گی۔باغی‘ کے کردار کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہاسے زمین پر تصدیقی عمل کیلئے آخر میں آپریشن کا حصہ بنایا گیا۔ذرائع نے واضح کیا کہ ان دنوں امریکہ میں رہنے والے باغی کا تعلق انٹر سروسز انٹلیجنس سے نہیں بلکہ ایک اور برانچ سے تھا۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے بتایا کہ وہ باغی کے بارے میں جانتے ہیں۔امریکہ نے اسامہ سے متعلق مصدقہ اطلاع دینے والے کیلئے ڈھائی کروڑ ڈالرز انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا تاہم ، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ رقم کسی کو ادا نہیں کی گئی کیونکہ آپریشن میں کوئی انسانی مخبر کام نہیں آیا۔ہرش نے اپنی رپورٹ میں مزید دعوی ٰکیا تھا کہ امریکہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان نے القاعدہ اور طالبان حملوں سے بچنے کی امید میں اسامہ کو ڈھال کے طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ہرش کے مطابق، بعد میں امریکہ نے پاکستان کو قائل کیا کہ اسامہ کو قتل کرنے کیلئے ایک جعلی آپریشن رچایا جائے تاکہ اس سے صدر بارک اوباما کی مقبولیت بڑھے اور پاکستان بھی آپریشن سے لاتعلقی دکھا سکے۔پاکستان فوج کے دونوں سابق اور کئی حاضر سروس افسران ایسے کسی معاہدے کی تردید کرتے ہیں۔ا س وقت کے سینئر فوجی افسر نے بتایا کہ آپریشن کے بعد ’ صورتحال انتہائی پریشان کن تھی اگر اعلی سطحی افسران اس منصوبہ کا حصہ ہوتے تو انہیں استعفیٰ دینے پر یقیناً مجبور کر دیا جاتا‘اس منصوبہ کا حصہ بننے کی صورت میں بڑے خطرے کے ساتھ ساتھ بدنامی اور بے عزتی بھی جڑی تھی۔2013 میں پاکستان حکومت کی منظر عام پر آنے والی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسامہ 2002 میں پاکستان آئے اور اگست، 2005 ایبٹ آباد میں رہائش پذیریر ہو گئے۔
فوج کے دو سابق سینئر افسروں نے خفیہ ادارے کے باغی کی جانب سے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کی تصدیق کردی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موسمی پرندے
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
عوام کیلئے بڑی خوشخبری ، عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
پی ٹی آئی کے اہم رہنما انتقال کر گئے
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
بجلی کی پیداوار سے متعلق وزیراعظم کا بڑا فیصلہ
-
ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی ختم، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بارش اور ژالہ باری کا امکان
-
کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے پر مکمل پابندی عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ
-
بھارتی اداکار و پروڈیوسر دل کے دورے کے سبب 47برس کی عمر میں چل بسے
-
شادی میں لیگ پیس نہ ملنے پر تصادم، نوجوان ہلاک



















































