ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں 6 سے23 ماہ عمر کے بچے خوراک کی کمی کا شکار، کتنے بچوں کو معیاری خوراک میسر ہے؟ انتہائی افسوسناک رپورٹ جاری

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) قومی ادارہ برائے صحت اور اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشن انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ(یونیسف) کے تعاون سے بچوں کی خوراک کے رجحانات پر تحقیق سے متعلق رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھ سے 23 ماہ عمر کے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، یہی خوراک کی کمی بچوں کی نشوونما

میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 15 فیصد بچے ہی معیاری خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اس تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معیاری خوراک پر پلنے والے بچوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ یونیسف، قومی وزارت صحت اور صوبائی ادارے بچوں کی خوارک میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر شعبہ خوراک بصیر اچکزئی نے کہا ہے کہ ادارے صوبوں کی قومی غذائی حکمت عملی مرتب کرنے اور منصوبہ سازی کے عمل میں معاونت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو دی جانے والی ناقصغذا کے مسئلہ کا حل نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں بھی شامل ہے۔ بصیر اچکزئی کے مطابق وزارت برائے قومی صحت کا غذائی اور خوراک سے متعلق شعبہ بچوں کی صحت کے لیے شراکت داروں سے تعاون کرتا رہے گا۔تقریب کے دوران واضح کیا گیا ہے کہ جائزہ رپورٹ کا مقصد بچوں کو دی جانے والی خوارک کے بد ترین اثرات سے متعلق صورتحال کو پرکھنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…