جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

وزارت خزانہ نے پاکستانی معیشت کو بڑے نقصان سے بچا لیا ،امریکہ میں شریفوں کے لگائے سفیر علی جہانگیر صدیقی کا نیا کارنامہ سامنے آگیا،چین سمیت مختلف ممالک سے 5ارب ڈالر قرضہ لیکر کیا کام کرنا چاہتے تھے؟

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ن لیگ کے سابق دور میں امریکہ میں تعینات کئے گئے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا ایک اور کارنامہ سامنے آگیا، وزارت خزانہ نے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا غیر ملکی قرض کےذریعے کیپٹل مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا 5ارب ڈالر کا پلان ناکام بنادیا ۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے سابق دور میںامریکہ میں تعینات کئے گئے

پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا ایک اور کارنامہ سامنے آگیاہے اور وزارت خزانہ نے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا غیر ملکی قرض کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا 5ارب ڈالر کا پلان ناکام بنادیاہے۔ منصوبے کے مطابق چین سمیت مختلف ممالک سے 5 ارب ڈالر مالیت کا غیر ملکی قرضہ لیکر خود مختار فنڈ قائم کرکے رئیل اسٹیٹ اور کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وزارت خزانہ اور سٹیٹ بنک کے بروقت اقدام کے نتیجے میں قومی خزانے کو کھربوں روپے کے نقصان سے بچا لیا گیا۔ ساورن ویلتھ فنڈ آف پاکستان بل کی کاپی کے مطابق ملکی معاشی حالت بہتر بنانے کے نام پر غیر ملکی قرض کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنا مقصد تھا۔ ڈرافٹ کے مطابق بورڈ کو سرپلس فنڈ کی کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع اختیارات دینے کی بھی سفارش کی گئی ۔وفاقی حکومت بورڈ کو صرف مالی ایمرجنسی کی حالت میں ہی ہدایات جاری کر سکتی ہے ۔ ڈرافٹ بل کے مطابق مالی ایمرجنسی کے علاوہ کوئی بھی حکومتی ادارہ یا شخصیت بورڈ کے معاملات میں عمل دخل نہیں کرنے کا مجاز نہیں۔ مجوزہ منصوبے کا اصل مقصد وفاقی حکومت اور پبلک سیکٹر کے اداروں سے ابتدائی سرمایہ حاصل کرنا تھا۔ بل میں بین الاقوامی اداروں سے امداد اور قرض لینے کا اختیار بھی تفویض

کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی۔علی جہانگیر صدیقی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے خصوصی فنڈ کو آپریشنل کرنا چاہتے تھے ۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت 200 ملین ڈالر کی ابتدائی رقم سے فنڈ قائم کرنا چاہتی تھی۔ منصوبے کے مطابق پاکستان کی خود مختار گارنٹی کے عوض چائنہ کے کمرشل بینکوں سے 5 ارب ڈالر مالیت کا قرض لیا جانا تھا۔ منصوبے کے مطابق حکومت پاکستان نے 5 ارب ڈالر مہیا کر کے فنڈ کو کنٹرول کرنے والے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…