بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سی این جی و کھاد کیلیے ایل این جی درآمد پر سیلز ٹیکس میں کمی

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد: حکومت نے سی این جی اور فرٹیلائزر سیکٹر کے لیے ایل این جی کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے پانچ فیصد کردی ہے۔
اس ضمن میں ’نجی ٹی وی کو دستیاب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن کی کاپی کے مطابق فرٹیلائزر سیکٹر کے لیے ایل این جی کی درآمد پر رعایتی شرح سیلز ٹیکس کا اطلاق مشروط ہو گا جبکہ سی این جی سیکٹر کے لیے کسی قسم کی کوئی شرط نہیں ہے ، نوٹیفکیشن کے مطابق فرٹیلائزر ینوفیکچررز کو ایس این جی پی ایل سے حاصل کردہ قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کے بارے میں ڈیٹا ماہانہ بنیادوں پر کمشنر ان لینڈ ریونیو کو فراہم کرنا ہو گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر ایس این جی پی ایل کی جانب سے اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر فرٹیلائزر سیکٹر کو کھاد کی تیاری کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جائے گی تو اس صورت میں فرٹیلائزر سیکٹر پر سترہ فیصد کی مروجہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔ نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی فرٹیلائزر مینوفیکچرر کی طرف سے ایک ٹیکس پیریڈ کے دوران درآمدی ایل این جی اور مقامی قدرتی گیس دونوں استعمال کی گئی ہوں گی تو اس صورت میں سیلز ٹیکس وصولی کے لیے اس کھاد مینوفیکچرر کی مجموعی پیداوار کی تقسیم کی جائے گی اور جو کھاد درآمدی ایل این جی سے تیار کی گئی ہوگی۔
اس پر رعایتی شرح سے سیلز ٹیکس لاگو ہوگا اور جو مقامی گیس سے تیار کی گئی ہوگی اس پر مروجہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا اور اگر کھاد مینوفیکچررز کی جانب سے درآمدی ایل این جی اور مقامی گیس سے پیدا ہونے والی کھاد کے لیے دو الگ الگ قیمتیں مقرر کی جائیں گی تو اس صورت میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن دو کی کلاز 27 پر عملدرآمد کیا جائے گا جس کے تحت کھاد مینوفیکچررز سے کھاد کی مقرر کردہ زیادہ قیمت کے لحاظ سے سیلز ٹیکس وصولی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…