منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کون سے منصوبے بنانے ہیں ؟فہرست ہمیں دیں، چین کے بعد ایک اور ملک پاکستان کی مدد کو آن پہنچا،شاندار اعلان کردیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور( آن لائن ) جنوبی کوریا کے سفیر سنگ کیو کواک نے خیبرپختونخوا میں پانی، نکاس آب، سفری سہولیات، دیہی اور شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کا ارارہ ظاہر کردیا۔انہوں نے پشاور میں دورے کے دوران حکومت سے باقاعدہ منصوبوں سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کا کہا۔ جوبی کورین وفد نے وزیر سیاحت عاطف خان، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور وزیرورکس

اکبر ایوب خان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سے امور پر بات چیت کی جس میں توانائی، ٹرانسپورٹیشن، پانی اور سینیٹیشن سمیت دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شامل تھے۔کورین وفد نے توانائی اور پاور کے سیکریٹری ظاہر علی شاہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سیکریٹری ظاہر شاہ سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر پشاور میں جنوبی کوریا کے آنری کونصل جنرل بھی موجود تھے۔اجلاس میں صوبے کے اندر جاری اور تکمیل شدہ منصوبوں کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی ۔اس حوالے سے کورین وفد نے حکومت کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت خیبرپختونخوا میں مختلف منصوبوں پر گرانٹ دینے کے لیے تیارہے جس کے لیے مقامی حکومت باقاعدہ پرپوزل ارسال کرے۔اس ضمن میں کورین وفد نے پشاور حکومت کے عہدیدارن کو 2 ہفتے کے دورے کی دعوت بھی دی۔کورین وفد نے سینئر وزیر سے 545 میگا واٹ کائیکا، 215 میگا واٹ اسریٹ کیڈم، 197 میگا واٹ کلام اسریٹ اور 496 میگا واٹ لو سپاٹ ویلوی ہائیڈرو پراجیکٹ سمیت کورین کمپنی کے تحت جاری منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔دوسری جانب وزیر نے وفد کو حکومتی حمایت اور تعاون کا بھرپور یقین دلایا۔اس ضمن میں انہوں نے کورین کمپنی کے منصوبے 215 میگا واٹ اسریٹ کیڈم ہائیڈرو منصوبے میں بھرپور تعاون کایقین دلایا اور کہا کہ واپڈا سے 496 میگا واٹ لو اسپاٹ ویلو منصوبہ لے کر کورین کمپنی کے حوالے کیا جائے گا۔

کوریا کے سفیر نے سینئر وزیر کی پیش کردہ سفارشات کو قبول کرتے ہوئے کورین کمپنیوں کے سماجی فنڈز کو پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔انہوں نے حکومت سے بدھسٹ اسٹوپا کی ازسرنو بحالی اور طویل العمیاد بنیادوں پر اس کی دیکھ بحال کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے سفارشات پیش کرنے کا کہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…