ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ڈیم فنڈ میں کروڑوں کے عطیات۔۔ بیرون ملک پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے شانداراعلان کر دیا

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیمز فنڈ کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں، انسان سب سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے اور کیا ہم اپنی اولاد کو مقروض چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، ان کو پانی کی قلت دے کر دینا چاہتے ہیں، ہمیں اپنی آئندہ آنیوالی نسلوں کو بہتر ماحول اور خوشحال ملک دینا ہے جس کیلئے

ہمیں آگے بڑھ کر ڈیمز بنانے کیلئے آگے آنا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر آنیوالے ہر مشکل وقت میں اوورسیز پاکستانیوں نے آگے آکر ہمیں ریسکیو کیا ہے اور ان کی وطن سے محبت اور تڑپ قابل ستائش اور لازوال ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی اوورسیز پاکستانیوں کو ایسی کی قدروقیمت کریں جیسی وہ ہر مشکل وقت میں ہماری کرتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان میں اپنی مکانات اور جائیدادیں بناتے ہیں ، یا تو ان پر قبضے ہو جاتے ہیں یا کوئی ان کو بیچ کھاتا ہے اور وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی سے بھی محروم رہتے ہیں یا قانونی کارروائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، ہم عدلیہ اور وزیراعظم کو مل کر ان کیلئے بھی کام کرنا ہو گا اور ان کو انکا حق دیناہو گا جو وہ ہم سے توقع رکھتے ہیں۔اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے پانی کے حوالے سے بیان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا پانی سے متعلق بیان خوش آئند ہے اور وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے قائم کئے گئے فنڈ کے حوالے سے فیصلہ ہماری اجازت سے کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اس حوالے سے مشاورت کرتے تو ان کو ہوشربا حقائق سے آگاہ کرتے۔ چیف جسٹس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ جلد پانی کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیم پر پہرہ دوں گا اگر مجھے وہاں ڈیم پر جھونپڑی بنا کر بھی رہنا پڑا تو رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…