جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کی امریکہ کے لیے تمام چینی درآمدات پر ٹیکس لگانے کی نئی دھمکی

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ چین کی 267 ارب ڈالر مالیت کی مزید درآمدی اشیا پر محصولات لگا دیں گے جس کے بعد عملی طور پر چین سے درآمد کی جانے والی ہر چیز ٹیکسوں کے دائرے میں آجائے گی۔یہ اضافی محصولات، ان 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات کے علاوہ ہیں جن پر پہلے ہی اضافی ٹیکس لگائے جا چکے ہیں،غیرملکی

خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے نارتھ ڈکوٹا کے شہر فارگو میں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مزید 200 ارب ڈالر کی اشیا کو جلد درآمدی ٹیکس کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔اس کے بعد 267 ارب ڈاالر کی اشیا کی فہرست بھی تیار ہے جن پر مختصر نوٹس پر ٹیکس عائد کیے جا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان ٹیکسوں کا اطلاق ہونے کے بعد صورت حال بدل جائے گی۔صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس سات روزہ مدت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں200 ارب مالیت کی چینی درآمدات پر نئے ٹیکسوں کے لیے لوگوں کی رائے مانگی گئی تھی۔وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر لیری کوڈلو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نئے مجوزہ ٹیکسوں کا فیصلہ کرنے سے پہلے لوگوں کی تجاویز کا جائزہ لے گی۔سات دنوں کی اس مدت کے دوران حکومت کو تقریباً 6000 تجاویز موصول ہوئی ہیں۔چین نے امریکہ کی جانب سے 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر نئے ٹیکسوں کے جواب میں چین میں درآمد کی جانے والی مساوی مالیت کی امریکی اشیا پر بھی امریکہ کے برابر ٹیکس لگا دیا تھا۔چین نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے نئے ٹیکس لگائے تو جواباً مساوی مالیت کے ٹیکس لگا دیے جائیں گے۔تاہم امریکہ بھیجی جانے والی چینی منصوعات کی مالیت امریکہ سے چین جانے والی اشیاسے کم ازکم 200 ارب ڈالر زیادہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اضافی درآمدی ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد چین سے درآمد ہونے والی تقریباً ہر چیز اضافی محصولات کے دائرے میں آ جا ئے گی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…