جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

حصول آزادی کی پہلی بڑی جدوجہد 1857ء‎:

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

11مئی1857ء کی صبح ‘دہلی واسی ابھی نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے تھے کہ میرٹھ سے فرار سپاہیو ں کا ایک دستہ جمنا ندی پارکر کے شہر میں داخل ہوا۔ ایک دن پہلے اس دستہ کے فوجیوں نے بپھر کر اپنے انگریز افسر کو قتل کر دیا تھا انہوں نے چنگی دفتر میں آگ لگا دی اور و ہ لال قلعہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ لال قلعہ میں وہ راج گھاٹ گیٹ سے داخل ہوئے ان کے پیچھے لوگوں کی ایک مشتمل بھیڑ تھی۔ سپاہیو ں کا یہ دستہ مغل بادشاہ بہادر شاہ جوایسٹ انڈیا کمپنی نے پنشن یافتہ قیدی تھے سے یہ اپیل کرنے آیا تھا کہ وہ اس کی قیادت کریں اور اس کے حق بجانب ہونے کی تصدیق کر دیں چونکہ وہ سپاہیوں کی منشاء سے بے خبر تھے اس لئے اس وقت ان کو گھبراہٹ سی ہوئی‘ انہوں نے یہ بھی سوچا کہ اس لڑائی میں ان کی ایسی بساط نہیں کہ کوئی اہم کردار ادا کر سکیں۔ بہرحال سپاہیو ں نے ان کو جبر سے نہیں بلکہ خوشامد سے راضی کرلیا اور اعلان کر دیا کہ وہ شہنشاہ ہندوستان ہیں۔ اس کے بعد سپاہیوں نے شاہی دہلی پر قبضہ کرنے کی مہم شروع کردی۔ کئی دوسرے انگریز افسروں کے علاوہ سائمن فریزر جو کمپنی کا سیاسی ایجنٹ تھا کو قتل کردیا۔ سرکاری دفتروں پر یا تو سپاہیوں نے قبضہ کرلیا یا وہ سب برباد کر دئیے۔1857ء کی یہ بغاوت اگرچہ ناکام رہی پھر بھی بدیسی حکومت کو ختم کرنے کی بہادرانہ کوشش کی شروعات اسی سے ہوئی۔ دہلی پر قبضہ کرنے اور بہادر شاہ کو شہنشاہ کی حیثیت سے اعلان کرنے سے سیاسی بغاوت پر مثبت سیاسی اثرات مرتب ہوئے اس سے لوگوں کے دلوں پر دہلی کے گزرے وقتوں کی شاہانہ عظمت کی یاد تازہ ہو گئی اور ان کی اجتماعی قوت میں خاصا اضافہ ہوا۔

انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کی بغاوت کامیاب ہو جاتی تو تاریخ کی سمت کیا ہوتی؟ 
’’اگرکسی تاریخی واقعہ کی اہمیت کو اس کی فوری کامیابی تک محدود نہ کیا جائے تو 1857ء کی بغاوت صرف تاریخی ٹریجڈی نہیں بلکہ اپنی تمام ناکامیوں کے باوجود اس نے ایک عظیم حوصلہ دیا جس کے تحت بعد میں وہ کچھ حاصل کرلیاگیا جو بغاوت میں حاصل نہیں ہواتھا‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…