منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

‘پندرہ ہزار پاکستانی جرمنی میں سیاسی پناہ کے طالب’

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جرمنی میں 15 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ اسی عرصے کے دوران امریکہ میں یہ تعداد بظاہر کافی کم یعنی تقریباً ایک ہزار ہے۔سینیٹر طلحہ محمود کے ایک سوال کے جواب میں وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سیاسی پناہ اکثر سیاسی ظلم و ستم اور حقوق اور آزادیاں نہ ملنے کی بنیاد پر مانگی جاتی ہے۔درخواست کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ متعلقہ ملک اس کی معلومات کا تبادلہ نہیں کرتا ہے۔ اس وجہ سے ان درخواستوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔ایوان میں ملک کے چند سفارت خانوں کی جانب سے ارسال کی گئی معلومات کے مطابق جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے پاکستانیوں کی تعداد میں سال 2010 سے مسلسل اضافہ ہوا ہے۔سنہ 2010 میں یہ تعداد 933 سے بڑھ کر سال 2014 میں 4000 سے زیادہ ہو گئی۔سال 2010 کے بعد سے ملک میں امن و عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا تھا جو گزشتہ برس تک اسی رفتار سے بڑھتا رہا۔حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں پاکستان کی بلوچستان کی ہزارہ برادری فرقہ ورانہ تشدد کا نشانہ بنی رہی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہزارہ نوجوانوں نے یورپ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کا رخ کیا تھا۔جرمن حکام نے اس بارے میں پاکستان سے بات بھی کی تھی۔امریکہ میں خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ سیاسی پناہ کی درخواست کرتے ہیں لیکن شاید معلومات کا تبادلہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ تعداد کم نظر آتی ہے۔سال 2010 میں یہ تعداد 200 سے بڑھ کر 1000 تک جا پہنچی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…