منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ہزارہ کی تاریخ کی پہلی خاتون محرر تعینات ،گلناز کون ہیں اور اس عہدے پر کیسے پہنچیں؟جانئے

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

ہزارہ (یواین پی)ڈی پی او عباس مجید مروت کی ہدایت پر ایس پی سونیا خان نے تھانہ سٹی ایبٹ آباد میں لیڈی محررکی تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق ہزارہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ضلعی پولیس سربراہ ایبٹ آباد عباس مجید خان مروت کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس پی ایبٹ آباد سونیا خان نے تھانہ سٹی ایبٹ آباد میں لیڈی ہیڈ کنسٹیبل کیڈٹ گلناز کو بطور محرر تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے ۔

لیڈی ہیڈ کنسٹیبل گلناز نے ہزارہ کی تاریخ کی پہلی محرر تھانہ تعینات ہونے کا اعزاز حاصل کیا اس سے پہلے پورے ہزارہ رینج میں کوئی بھی خاتون تھانہ میں محرر تعینات نہیں رہی ۔ لیڈی ہیڈ کنسٹیبل کو تربیتی کورس سال 2012کے دوران اپنے بیج میں اوور آل پہلی پوزیشن کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔نوتعینات محرر تھانہ سٹی لیڈی ہیڈ کنسٹیبل کیڈٹ گلناز سال 2008میں محکمہ پولیس میں بطور کنسٹیبل بھرتی ہوئی سال 2012کے دوران لیڈی کنسٹیبل نے ریکروٹ کورس پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں اوور آل پہلی پوزیشن حاصل کر کے اپریل 2014میں بطورمحرر ہیڈ کنسٹیبل تھانہ ویمن ایبٹ آباد تعینات ہوئیں جسے ایڈیشنل ایس پی ایبٹ آباد سونیا خان نے ضلعی پولیس سربراہ ایبٹ آباد عباس مجید خان مروت کی ہدایت پر خصوصی امتحان و انٹرویو لینے کے بعد بطور محرر تھانہ سٹی تعیناتی کے احکامات جاری کیے ۔ ضلعی پولیس سربراہ ایبٹ آباد عباس مجید خان مروت نے بتایا کہ لیڈی ہیڈ کنسٹیبل کی بطور محرر تھانہ تعیناتی سے معاشرے میں عورتوں کے مسائل کے حل اور حقوق کی پاسداری میں اہم قدم ثابت ہو گا اورعورتوں کو تھانہ میں اپنی شکایات کے ازالے اور رپورٹ میں کسی قسم کی دقت محسوس نہ ہو گی جبکہ نو تعینات محرر لیڈی ہیڈکنسٹیبل گلناز بی بی نے اس عزم کا ا ظہار کیا ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے عورتوں کے تمام مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر کریں گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…