منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ 12 مئی، ملک بھر کے وکلاءنے یوم سیاہ منایا

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان بار کونسل کی کال پر سانحہ 12 مئی کیخلاف ملک بھر کے وکلاءنے یوم سیاہ منایا اور وکلاءنے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ ملک بھر کی بار کونسلوں کی عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرانے کے علاوہ سانحہ 12 مئی کے شہداءکے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق منگل کے روز پاکستان بار کونسل کی کال پر ملک بھر کے وکلاءنے سانحہ 12 مئی کے خلاف یوم سیاہ منایا ہے اور عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ وکلاءنے بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھی اور بار کونسل کی عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے‘ کراچی بار کونسل میں سانحہ 12 میں شہید ہونے والے افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور قرار داد پیش کی گئی کہ سانحہ 12 مئی کی تحقیقات رینجرز سے کرائی جائے اور واقعہ میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ واضح رہے کہ سانحہ 12 مئی ملکی تاریخ کا بڑا سانحہ ہے۔ جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا گیا تو معزولی کے دوران وہ کراچی بار کونسل میں خطاب کرنے کے لئے جونہی کراچی ائیرپورٹ پر اترے تو کراچی ائیرپورٹ سے باہر پورے شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی جس کے بعد مسلح افراد نے شہر قائد کی سڑکوں کو خون سے رنگین کر دیا۔ چیف جسٹس کے استقبال کے لئے جانے والے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں سمیت وکلاءکا قتل عام کیا گیا اور توڑ پھوڑ اور املاک کو تباہ کیا گیا۔ ان ہنگاموں کے دوران 50 سے زائد افراد کو کراچی کی سڑکوں پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکن وکلاءاور عام شہری بھی شامل تھے۔ اس قتل و غارت اور ہنگامہ آرائی کے باعث معذول چیف جسٹس افتخار چوہدری ائیرپورٹ پر محصور ہو گئے انہیں کراچی بار کونسل سے خطاب کئے بغیر واپس اسلام آباد آنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…