جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آرمی چیفس سابق وزرائے اعظم نواز شریف، گیلانی اور شاہد خاقان سے ملتے رہے تو ان کے ہاتھ میں ڈنڈا ہوا کرتا تھا لیکن اس بار جب آرمی چیف وزیراعظم عمران خان سے ملے تو ان کے ہاتھ میں ڈنڈا کیوں نہیں تھا؟ اصل وجہ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بتا دی

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ آرمی چیفس جس جس سابق وزرائے اعظم کے ساتھ بیٹھے ہوتے تھے ان کے ہاتھ میں ایک مخصوص ڈنڈا ہوتا تھا، پروگرام کے میزبان نے پرانی تصاویر دکھائیں جن میں آرمی چیفس سابق وزرائے اعظم نواز شریف، گیلانی اور شاہد خاقان سے مل رہے تھے ان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،

لیکن اس بار آرمی چیف وزیراعظم عمران خان سے ملے تو ان کے ہاتھ میں ڈنڈا کیوں نہیں تھا؟ آرمی چیف اور کور کمانڈرز نے ٹوپیاں بھی پہن رکھی تھیں ایسا کیوں تھا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے کہا کہ چیف آف آرمی چیف جس چیز سے گھبراتا ہے وہ رینک اینڈ فائل ہے، یہ اس کے سورس آف پریشر ہیں، وہ بھی ایک سوچ رکھتے ہیں، جو سوچ اور محسوسات ہیں وہ آہستہ آہستہ اوپر پہنچتی ہے وہ چاہتے وہ آپ کا کور کمانڈر ہو یا کمانڈر ہو وہ بات ان تک پہنچتی ہے اور وہاں سے آرمی چیف تک پہنچتی ہے، دوسری چیز سمجھنے والی یہ ہے کہ جب جنرل باجوہ کو جب آرمی چیف بنایا گیا تو انہیں ایک تنگ سی گلی میں سے گزارا گیا، وہاں سکینر تھے انہیں سکینر سے گزارا گیا، وہ بڑی مشکل سے وہاں سے گزرے، ایک چھوٹے سے کمرے میں انہیں بٹھایا گیا جہاں وزیراعظم نواز شریف ہیڈماسٹر بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، چیف آف آرمی سٹاف جو ساڑھے چھ انچ کا جوان ہے اسے چھوٹی کرسی پر بٹھایا گیا ہے، جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ وزیراعظم عمران خان کتنے سکون سے بیٹھے اپنے آرمی چیف سے گپ لگا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…