اسلام آباد (نیوزڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات سالہ بچے کو اغواءکے بعد تاوان نہ ملنے پر قتل کے جرم میں سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لئے عدالتی کمیشن کی بنانے کی درخواست مسترد کر دی ۔ عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سزائے موت پر جاری حکم امتناع خارج کرتے ہوئے شفقت حسین کی پھانسی کی سزا بحال کر دی ۔ شفقت حسین کی جانب سے دائر درخواست پر تفصیلی جاری کر دیا گیا ہے۔ 19 صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی درخواستیں نہ صرف سماعت کے قابل نہیں بلکہ بے کار مقدمہ بازی کے زمرے میں آتی ہیں ، ایسی درخواستیں عدالتی کارروائی کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ ضابطہ فوجداری میں عمر کے تعین کے لئے عدالتی کمیشن کی تشکیل کی درخواستوں کی گنجائش نہیں۔ ایسی درخواستیں عدالتی نظام پر سے عوام کا اعتماد اٹھانے کا باعث بنتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی شفقت حسین کی اپیل خارج کر دی تھی جس کے بعد اس نے کم عمری کے حوالے سے درخواست دائر کی جو عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دی۔ شفقت حسین نے ٹرائل کورٹ میں بیان دیتے ہوئے خود تسلیم کیا تھا کہ اس کی عمر 23 سال ہے اور اسے منصفانہ ٹرائل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی جس سے مجرم نے انکار نہیں کیا۔ فاضل جسٹس نے فیصلے میں خصوصی طور پر تحریر کیا کہ پاکستان کا فوجداری نظامِ انصاف اس طرح سے تشکیل دیا گیا کہ کہیں کسی غلطی یا ناانصافی کا امکان نہ ہو مگر انسانوں کے بنائے ہوئے نظام میں کسی نہ کسی جگہ غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کی بنیاد یہ ہے کہ کوئی بھی ملزم حتمی فیصلے تک معصوم ہوتا ہے اور اس کے منصفانہ ٹرائل کے لئے شہادتوں اور فوجداری پروسیجر کے سخت اصول موجود ہیں۔ شفقت حسین کے مقدمہ میں پیش کئے گئے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2004ءمیں جب اس کا ٹرائل ہوا اس وقت صرف کراچی میں 1400 ملزمان کے مقدمات کو بچوں کی عدالتوں میں بھیجا گیا۔ شفقت حسین کے مقدمہ کی کارروائی کے دوران یہ بات بھی مشاہدے بھی آئی کہ بعض افراد نے حقائق جانے بغیر واویلا شروع کر دیا جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ ایسے معاملات میں احتیاط برتی جائے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لئے دائر درخواست پر فیصلہ 3 روز قبل محفوظ کیا تھا۔ شفقت حسین کی عمر کے تعین کے حوالے سے ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مہم چلائی گئی جس میں کہا گیا کہ قتل کے وقت شفقت حسین کی عمر کم تھی لہٰذا اس کی سزائے موت پر عمل درآمد روکا جائے۔
شفقت حسین کا قصہ تمام،19 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
بجٹ سے پہلے بڑا دباؤ، سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ اور پنشن بحالی کا مطالبہ
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری



















































