منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تمام امیدیں دم توڑ گئیں،صولت مرزا کی آخری خواہش

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) سزائے موت کے مجرم صولت مرزا نے آخری خواہش میں پھانسی ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے تاہم مجسٹریٹ نے آخری خواہش پوری کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مچھ جیل میں منگل کی صبح صولت مرزا کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کےلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور صولت مرزا کا وزن بھی کرلیا گیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق صولت مرزا کا وزن اس وقت 85 کلوگرام ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے آخری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے صولت مرزا نے کہا ہے کہ مجھے ایک ہفتے کی مہلت دی جائے کہ مقتولین کے ورثاءسے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ مجسٹریٹ نے جواباً کہا کہ پھانسی ملتوی کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں صرف پھانسی کے عمل کی نگرانی کروں گا۔ جیل حکام کے مطابق تمام امیدیں ختم ہونے کے بعد صولت مرزا کافی غمگین اور افسردہ نظر آئے۔ سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کو آج (منگل) صبح ساڑھے 4 بجے مچھ جیل میں پھانسی پر لٹکادیا جائے گا۔ صولت مرزا سے پیر کو ان کے اہل خانہ نے پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی۔ ملاقات میں اہلیہ، بیٹے، بہنوں سمیت 30 افراد نے ملاقات کی۔ بعد ازاں صولت مرزا کو ڈیتھ اسکواڈ سیل میں منتقل کردیا گیا۔ اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے صولت مرزا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔ مشن میں کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔ اگر موقع ملا تو اور لوگوں کو بھی بے نقاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے جاری مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے اہل خانہ سے دعا کی درخواست بھی کی۔ ذرائع کے مطابق صولت مرزا سے خاندان کے 30 سے زائد افراد نے ملاقات کی جبکہ مچھ جیل نہ پہنچنے والے رشتہ داروں سے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ملاقات کرائی گئی۔ ملاقات پھانسی گھاٹ کے احاطے میں کرائی گئی۔ پانچ گھنٹے طویل ملاقات کے بعد صولت مرزا کو ڈیٹھ اسکواڈ منتقل کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…