جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

خاور مانیکا کو دراصل کس نے روکاتھا؟کس نے خاور مانیکا کی کنپٹی پر پستول رکھی اور پھر ایسی کیا بات کہی کہ انہوں نے فوراً اہم شخصیت سے رابطہ کرلیا؟ حامد میر کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)خاور مانیکا کو دراصل کس نے روکاتھا؟کس نے خاور مانیکا کی کنپٹی پر پستول رکھی اور پھر ایسی کیا بات کہی کہ انہوں نے فوراً اہم شخصیت سے رابطہ کرلیا؟ حامد میر کے سنسنی خیز انکشافات، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی حامد میر خاور مانیکا اور ڈی پی او پاکپتن کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر لے آئے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے انکشاف کیا کہ خاور مانیکا کو پاکپتن کی پولیس نے نہیں بلکہ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس نے روکاتھا اور

تلخ کلامی کے دوران ایک پولیس اہلکار نے ان کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر انہیں اپنارویہ بہتر رکھنے کو بھی کہا جس پر خاور مانیکانے ڈی پی او رضوان گوندل کو فون کیا۔حامد میر نے بتایاکہ پنجاب پولیس اور آزاد ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ ڈی پی او پاکپتن کے حوالے سے جو باتیں ہوئی تھیں اس سلسلے میں ایک نہیں بلکہ دو تین واقعات ہوئے ہیں اس سلسلے میں پہلا واقعہ پانچ اگست کو ہوا جب ایک خاتون پیدل پاکپتن مزار کی جانب جا رہی تھیں تو ایلیٹ فورس کی چار گاڑیاں ان کے پیچھے چلنا شروع ہو گئیں۔ پولیس نے خاتون کو روک کر پوچھا کہ آپ کون ہیں جس کے بعدمعلوم ہوا کہ وہ خاور مانیکا کی بیٹی ہیں، حامد میر نے وضاحت کی کہ کہا جاتارہاہے کہ وہ شائد عمران خان کی اہلیہ تھیں لیکن وہ عمران خان کی اہلیہ نہیں بلکہ خاور مانیکا کی بیٹی ہی تھیں حامد میر نے انکشاف کیا کہ اس واقعے کے کچھ دن کے بعد ہی دوبارہ رات کے تقریباً ایک بجے خاور مانیکا اپنی فیملی کیساتھ کہیں جا رہے تھے کہ پولیس نے انہیں ایک بارپھرروکا اور اس بار بھی پولیس پاکپتن کی نہیں تھی بلکہ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس تھی۔ پولیس کے روکنے کے باوجود وہ نہیں رکے جس پر پولیس نے ان کا پیچھا کر کے انہیں روک ہی لیا جس کے بعد پھر ان کا آپس میں جھگڑا ہوا اور اس تلخ کلامی کے دوران ایک پولیس والے نے خاور مانیکا کی کنپٹی پر پسٹل رکھ کرانہیں کہا کہ آپ اپنا رویہ بہتر کریں۔جس کے بعدخاور مانیکا نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو فون کیا تو انہوں نے خاور مانیکا کی مدد کی تھی اورپویس والوں نے انہیں جانے دیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…