منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بلڈ پریشر، شوگر اور عارضہ قلب کے مریضوں کا بڑا مسئلہ حل ہو گیا، قربانی کے گوشت سے کس طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں، ماہرین طب نے طریقہ بتا دیا

datetime 20  اگست‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)عید قربان کے بعد قربانی کا فریز کیا ہوا گوشت بلڈ پریشر، شوگر اور عارضہ قلب کے مریض اعتدال سے اور چبا کر کھائیں۔ اِن خیالات کا اظہار ملک کے نامور ماہرین طب ڈاکٹر محمد محسن، ڈاکٹر محمد عامر دائود، ڈاکٹر محمد رمضان ہاشمی، ڈاکٹر محمد افضل میو، ڈاکٹر علی محمد بلال، ڈاکٹر وارث علی، ڈاکٹر محمد اسلم جوئیہ، داکٹر انعم ہاجرہ اور ڈاکٹر صومیہ دائود

نے میڈیکل آکوپنکچر ایسوسی ایشن پاکستان کے زیر اہتمام قربانی کے گوشت کے استعمال اور احتیاطی تدابیر کے موضوع پر منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند افراد کیلئے دن بھر میں سو گرام گوشت کا استعمال نقصان دہ نہیں جبکہ اس سے زیادہ مقدار نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ گوشت کو نقصان دہ یا غیر نقصان دہ سمجھنے کی بجائے یہ سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ غیر متوازن غذامرض اور متوازن غذا صحت کی علامت ہے۔ عید قربان کے گوشت میں بے اعتدالی اند غیر محتاط رویہ اختیار کرنے کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گوشت کے بکثرت استعمال سے بد ہضمی، ڈایئریا، پیٹ درداور بخار جیسی شکایات فوری ظاہر ہو جاتی ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر، آرتھرائیٹس، امراض قلب اور کینسر جیسی امراض کافی عرصہ بعدوقوع پذیر ہوتی ہیں۔زیادہ گوشت کا استعمال دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ کیلشیم کی کمی سے ہڈیاں ہلکی اور بھربھری ہو جاتی ہیں جس سے فریکچر باآسانی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ گوشت زیادہ کھانے سے وزن بڑھتا ہے۔ پیٹ بڑھنے سے پیٹ کے نیچے لبلبہ بھی ڈیپریس ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین بننا کم ہو کر خڈانخواستہ شوگر ہو سکتی ہے۔گوشت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور عید قربان کا تحفہ ہے جس کا اعتدال کے ساتھ استعمال پروٹین کی کمی کو پورا کرتا ہے اور خون میں سرخ خلیے بناتا ہے۔موسمی پھلوں اور سبزیو ں کا استعمال نھی کرنا چاہیے تاکہ غذا متوازن ہو سکے۔ گوشت کے پکوانوں کا استعمال کم کریں۔ اُنھوں نے بتایا کہ گوشت ہضم کرنے کیلئے کولڈ ڈرنک کا استعمال سخت نقصان دہ ثابت ہو تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…