جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی فنڈز کے انجماد کے باوجود اْنروا کے تحت فلسطینی اسکول بروقت دوبارہ کھلیں گے

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک)اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی اْنروا کے زیرانتظام سیکڑوں اسکول فنڈز کی عارضی طور پر دستیابی کے بعد بروقت کھلیں گے۔امریکا کی جانب سے فنڈز منجمد کیے جانے کے بعد اْنروا مالی بحران سے دوچار ہوگئی تھی۔انروا نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں ، اردن ، شام اور لبنان میں تمام 711 اسکول

نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بروقت کھل جائیں گے، ان اسکولوں میں پانچ لاکھ 26 ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے مختلف درجوں میں زیر تعلیم ہیں ۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کی امداد روک لی تھی جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور دوسرے عہدے داروں نے خبردار کیا تھا کہ فنڈز کی کمی کے پیش نظر اْنروا کے زیر انتظام اسکول شاید دوبارہ نہ کھل سکیں ۔اقوام متحدہ ریلیف اور ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (اْنروا) کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آغاز کے بعد سے 23 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کے اضافی فنڈز کے حصول میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن اس نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ فی الوقت اس کے پاس صرف ماہ ستمبر میں اپنی خدمات مہیا کرنے کے لیے نقدی دستیاب ہے۔اس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں مزید 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے زیر انتظام اسکول اس سال کے آخر تک کھلے رہیں اور ان میں تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں‘‘۔ یہ اسکول 29 اگست اور 2 ستمبر کے درمیان کھلیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے انروا کے 30 کروڑ ڈالرز کے امداد ی فنڈز منجمد کرلیے تھے۔ اس کے بعد سے دوسرے ممالک نے انروا کو اضافی رقوم مہیا کی ہیں لیکن اس ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ اس کی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ناکافی ہیں۔

یہ ایجنسی مشرقِ اوسط بھر میں تیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی مہاجرین اور ان کے خاندانوں کو امدادی خدمات مہیا کرتی ہے۔اس کے ملازمین کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں کی اکثریت فلسطینیوں ہی کی ہے۔انروا نے گذشتہ ماہ فلسطینی علاقوں میں فنڈز کے بحران کے پیش نظر ڈھائی سو اسامیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔یادرہے کہ انروا کا 1948ء کی جنگ کے بعد قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

اس جنگ کے دوران میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی ریاست قائم کی گئی تھی اور انتہا پسند یہود کے جتھوں اور ملیشیاؤں کے حملوں کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے نکا ل باہر کیا گیا تھا۔ تب سے یہ فلسطینی مہاجرین اور ان کی آل اولاد مہاجرت کی زندگی بسر کررہی ہے اور ان کی گزر بسر کا انحصار انروا یا دوسری عالمی ایجنسیوں سے ملنے والی امداد پر ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…