ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شادی کی خواہش رکھنے والے مردوں کےلئے ایک بڑی شرط

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آبادا (نیوز ڈیسک) مردوں کو شادی کی نعمت سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہمیشہ سے ہی تگ و دو کرنا پڑی ہے لیکن بحرالکاہل میں واقع جزائرپر مشتمل ملک سلیمان آئی لینڈز کے مردوں کو شادی کے لئے بہت ہی مشکل شرط پوری کرنا پڑتی ہے۔ یہاں دیہاتی نوجوانوں کو شادی سے پہلے ہونے والی دلہن کو ڈولفن مچھلی کے دانتوں سے بنا ہار پیش کرنا پڑتا ہے اور یہ شرط پوری کرنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سپاٹڈ، سپنر اور باٹل نوز ڈولفن مچھلیوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ ملیٹا جزیرے کے قریب سب سے زیادہ شکار کیا جاتا ہے جہاں نوجوان 20 سے 30 کشتیوں کے گروپ میں نکلتے ہیں اور گہرے سمندر میں جاکر نصف دائرے کی شکل میں جزیرے کی طرف پلٹتے ہیں۔ یہ نوجوان پانی کے نیچے پتھر ٹکراتے ہیں جس کی وجہ سے مچھلیاں ان کی کشتیوں کے آگے آگے تیرتی ہوئی ساحل کی طرف حرکت کرتی ہیں۔ ساحل کے قریب جمع ہونے والی مچھلیوں پر بھالوں کی بارش کردی جاتی ہے اور ہر روز اسی طرح تقریباً 700 مچھلیوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔امریکا کے ماحولیاتی ادارے ارتھ آئی لینڈ انسٹیٹیوٹ نے مچھلیوں کی جان بچانے کے لئے 2010ءمیں مقامی لوگوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت شادی کے خواہشمند نوجوانوں کو رقم ادا کی جاتی تھی تاکہ وہ ڈولفن کے دانتوں کے ہار کی بجائے دلہن کو رقم کا تحفہ پیش کرسکیں۔ یہ معاہدہ دسمبر 2012ءمیں ٹوٹ گیا کیونکہ ڈولفن کے دانتوں کے ہار کی جگہ رقم کو زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ایک اندازے کے مطابق سلیمان آئی لینڈز کے جزائر کے قریب 1976ءسے لے کر 2013ءتک 15ہزار سے زائد نایاب ڈولفن مچھلیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس علاقے میں ڈولفن کی نسل ختم ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…