پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹر سمیت اہم شخصیات کی جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے بلیک میل کرنیوالے شخص کیخلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)ایف آئی اے نے اہم شخصیات کی جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے انہیں بلیک میل کرنے والے شخص ناصر علی تنولی کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردئیے۔تفصیلات کے مطابق ملزم ناصر علی تنولی سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ بنا کر اہم شخصیات کی تذلیل پر مبنی مواد اپ لوڈ کرتا ہے اور بعد ازاں ان شخصیات کو ٹیلی فون کرکے جان چھڑانے کیلئے رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس حوالے سے متعدد افراد نے پولیس اور ایف آئی اے سے رجوع کیا ہے۔تازہ ترین واقعہ میں ملزم ناصر تنولی نے سینیٹر طلحہ محمود کے ایک قریبی سے رقم کا تقاضا کیا جسے تسلیم نہ کئے جانے پر اس نے سوشل میڈیا پر اے این ایف کے حوالے سے ایک جعلی ویڈیو شیئر کردی۔اس ویڈیو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سینیٹر طلحہ محمود ممنوعہ کیمیکل کا کاروبار کرتے ہیں اور اینٹی نارکوٹیکس فورس نے ان کا ٹرک پکڑ لیا ہے۔اے این ایف نے اس ویڈیو کو شرانگیز قرار دیتے ہوئے تردید جاری کی۔علاوہ ازیں ملزم نے سینیٹر طلحہ محمود کے متعلق ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تاثر دیا گیا کہ وہ ووٹ خریدنے کیلئے لوگوں کو نقد رقوم دے رہے ہیں۔اس حوالے سے جب تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ ماہ رمضان میں سینیٹر طلحہ محمود کسی قبائلی علاقے کے عوام میں رمضان پیکج تقسیم کر رہے تھے تو جاری شدہ ٹوکن سے زیادہ تعداد میں غرباء ومساکین جمع ہوگئے ،جن کے لئے راشن پیکج موجود نہیں تھا۔اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے ان غرباء کو مایوس نہ جانے دیا اور راشن پیکج کی مد میں نقد رقوم ادا کردیں۔ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد نے تحقیقات کے بعد ملزم ناصر علی تنولی کے خلاف ایف آئی آر نمبر02/2018 درج کرلی ہے۔ملزم کی گرفتار کے لئے ٹیم مانسہرہ روانہ کی جارہی ہے۔اہل علاقہ کے مطابق ملزم ناصر علی خود کو سوشل میڈیا کا صحافی کہتا ہے اور لوگوں کو عزت خراب کرنے کی دھمکی دے کر رقوم بٹورتا ہے۔ابھی چند روز قبل وہ ایک ایسے ہی کیس میں4ماہ کی جیل بھگت کر رہا ہوا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…