منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جویشل کمیشن اچھا کام کررہاہے ،اچھے فیصلے کی توقع ہے ،جہانگیر ترین

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ حکومت بغیر مشاورت کے اپنی مرضی کے فیصلے قوم پر ٹھونس رہی اس لئے ہر اقدام میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ایک دن میں نہیں آ سکتا،جوڈیشل کمیشن کی وجہ سے بڑے بڑے انکشاف ہو رہے ہیں،کمیشن کی جانب سے اچھا فیصلہ آنے کی توقع ہے جو بھی فیصلہ آئیگا اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقتصادی کانفرنس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے توانائی بچت پالیسی میں ناکام رہی ہے ،حکومت ایک طرف معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے دعوی کررہی ہے اور دوسری جانب تاجروں پر مختلف پابندیاں لگا کر معاشی قتل کررہی ہے ،انہوں نے کہا کہ کاروباری مراکز جلد بند کرانے کے فیصلے سے قبل تاجروں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی جو حکومت نے نہیں کی،انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی فیصلے کررہی ہے اس میں کوئی مشاورت نہیں کی جاتی جس سے حکومت کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا رہتا ہے ،موجودہ حکومت صرف فیصلے ٹھونس رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملکی معاملات پر مشاورت ضرور کرنی چاہیے اور معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ،موجودہ حکومت نوجوانوں کو بینکوں سے قرضے دلا کران کی زندگیاں تباہ کررہی ہیں،کاروبار کے نام پر لاکھوں روپے دیئے جارہے ہیںجو ساری زندگی مقروض رہیں گے۔نوجوان ملک میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں نوجوانوں کو قومی ادارے میں شامل کر کے معاشی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ایک دن میں نہیں آ سکتا جو ڈیشل کمیشن اچھا کام کررہا ہے اور ہمیں ایک اچھے فیصلے کی توقع ہے ،جوڈیشل کمیشن کے سامنے محبوب انور کی گواہی سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے اور بڑے بڑے انکشافات سامنے آرہے ہیںجس پر ہمیں سخت تشویش ہے،انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے غیر معمولی باتیں سامنے آرہی ہیں جس کی مثال این اے 125 میں ٹریبونل نے فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گلگت ایک بڑا المناک حادثہ ہے ،جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمیں ہمدردی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں تحریک انصاف ان کے ساتھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…