ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سیلفی کا جنو ن : جنازے کے ساتھ بھی تصویر بنا ڈالی

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ڈیسک )عام لوگوں سے لے کر زندگی کے مختلف شعبوں کی نام ور شخصیات تک سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی رنگارنگ دنیا سے وابستہ ہر شخص اپنی تنہا یا کسی کے ساتھ تصویر بناکر کسی سوشل میڈیا سائٹ پر دیتا ہے اور بعض لوگ تو یہ عمل روز سرانجام دیتے ہیں۔ ماہرین نفسیات سیلفی کی لت کو نفسیاتی عارضہ قرار دے چکے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ رجحانات سخت نکتہ چینی کا نشانہ بنتا ہے، جیسے عمرے اور حج کے دوران لوگوں کے سیلفی بنانے پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔اسی طرح بعض اور مواقع پر بھی ایسا کرنا قابل مذمت قرار پاتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا ایک جنازے پر، کسی قتل عام کی یاد گار کے ساتھ یا پھر ایک جلتے ہوئے مکان کے سامنے ’سیلفی‘ لینا حد سے تجاوز کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ مگر ہوا یہ ہے کہ یہ رجحان ظالمانہ چلن کا روپ دھار چکا ہے اور لوگ جنازوں کے ساتھ اور جائے حادثات پر بھی سیلفی بنانے سے گریز نہیں کرتے۔یہ سب حقیقی مثالیں ہیں اور ٹمبلر‘ کی ویب سائٹ پر سنجیدہ جگہوں پر سیلفیز کے عنوان کے نیچے اور نیویارک کے جیسن فیفر کی ’جنازوں پر سیلفیز‘ نامی ویب سائٹ پر موجود ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیلفی کے شوقین غم کے مواقع اور کسی کی موت کے موقع پر بھی سیلفی لینے سے گریز نہیں کرتے۔جیسن کی ویب سائٹ پر شائع یہ تصاویر وہ ہیں جنھیں سوشل میڈیا پر عوامی پذیرائی ملی ہے۔ ان میں سے ایک تصویر لاس ویگاس کے شہر میں ایک نوجوان کی زمین پر پڑے ہوئے ایک بے گھر شخص کے ساتھ سیلفی ہے، جس کے نیچے لکھا ہوا ہے ’بنا قمیص اور بے گھر سیلفی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…