بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

میں اسےوزیرخارجہ بنانا چاہتا ہوں اور وہ مجھ سے کونسا عہدہ مانگ رہا ہے؟ تحریک انصاف کے کس اہم ترین رہنما نے کپتان کی خواہش پر وزیر خارجہ بننے سے انکار کردیا ، یہ بندہ کون ہے؟حامد میر نے سنسنی خیز انکشاف کر دیا

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف عام انتخابات میں اکثریتی جماعت کے طور پر ابھر سامنے آئی ہے اور قومی اسمبلی، خیبرپختونخواہ، پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے جوڑ توڑ میں مصروف ہے جبکہ بلوچستان میں بھی حکومت سازی میں اہم کردار نبھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت سازی اور اہم وزارتوں کیلئے عمران خان نے مشاورت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور اس سلسلے

میں انہوں نے کئی نام فائنل بھی کر لئے ہیں۔ ایسے میں وفاق میں سب سے اہم وزارت وزارت خارجہ ہے جس کیلئے عمران خان اپنا انتخاب کر چکے ہیں تاہم جس شخص کو وہ وزیر خارجہ بنانا چاہتے ہیں وہ اس وزارت کیلئے آمادہ نہیں اور وہ عمران خان سے قومی اسمبلی میں سپیکر کے عہدے کیلئے بضد ہے۔ اس بات کا انکشاف ملک کے معروف صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں کیا ہے۔ عام انتخابات کے 10روز بعد عمران خان سے بنی گالا میں طویل ملاقات کرنیوالے حامد میر اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ چلتے چلتے عمران خان نے اپنی پارٹی کے ایک رہنما کا نام لیکر پوچھا کہ میں اسےوزیرخارجہ بنانا چاہتا ہوں وہ اسپیکر بننا چاہتا ہے اسے کیا مسئلہ ہے ؟یہ وہ واحد پریشانی تھی جس کا اظہار عمران خان نے میرے ساتھ کیا اور میں نے جو جواب دیا وہ آپ کو کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گا۔واضح رہے کہ ملک کے معروف صحافی و تجزیہ کار حامد میر کی الیکشن کے بعد عمران خان سے بنی گالا میں ایک طویل نشست ہوئی ہے جس کے بارے میں انہوں نے اپنے کالم میںچیدہ چیدہ باتیں لکھی ہیں۔ ایک جگہ حامد میر لکھتے ہیں کہ اجازت لینے سے قبل میں نے کہا کہ اپنے کسی سیاسی مخالف کو انتقام کا نشانہ مت بنائیے گا اور نہ کسی پر مقدمے بنائیے گا احتساب کا معاملہ نیب اور عدالتوں پر چھوڑ دیں خان صاحب نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اثبات میں سر ہلایا

اور میں نے دل ہی دل میں ان کی ثابت قدمی کیلئے دعا کی کیونکہ یہ خاکسار ماضی میں متعدد وزرائے اعظم کی زبان سے ایسی باتیں سن چکا ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنے کہے پر قائم نہ رہے یا انہیں قائم نہ رہنے دیا گیا۔امید ہے کہ ہمارے ملک کے طاقتور ریاستی ادارے عمران خان کو اپنا یس مین بنا کر ناکام نہیں کریں گے بلکہ عمران خان کے ذریعہ قومی اہمیت کے حامل مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور اس ملک سے سیاسی انتقام کے کلچر کا خاتمہ کریں گے اور عمران بھی کسی کو اپنا یس مین بنانے کی کوشش نہیں کریں گے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…