اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا وزیر اعظم ہاؤس 135ایکڑ رقبے پر پھیلی عالیشان عمارت ،جس کی تزئین و زیبائش اور مہمانوں کے خیر مقدم اور تحائف پر کتنی بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے؟عمران خان کے فیصلے کا کیا اثر پڑے گا؟عرب میڈیا کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)عرب میڈیا نے اپنے تفصیلی تجزیئے میں کہا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس 135ایکڑ رقبے پر پھیلی عالیشان عمارت ہے جس کے عملے کیلئے 700ملین روپے مختص ہوتے ہیں، 150ملین روپے مہمانوں کے خیر مقدم اور تحائف ،15ملین سالانہ تزئین و زیبائش پر صرف کئے جاتے ہیں،اطلاعات مل رہی ہیں کہ عمران خان بطور وزیر اعظم سپیکر ہاؤس کو اپنے استعمال میں لانا چاہیں گے،

وہ جہاں بھی رہیں تاہم وزیر اعظم ہاؤس منتقل نہ ہوکر وہ عوام کو واضح اور مثبت پیغام دیں گے،عوام پر عمران خان کے فیصلے کا نہایت مثبت اثر پڑے گا ۔ہفتہ کو عرب میڈیا نے تفصیلی تجزیہ چھاپ دیا ،جس میں یہ سوال کیا گیا کہ چیئرمین تحریک انصاف کے وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنے کے اعلان سے کیا فائدہ ہوگا جبکہ عالمی میڈیا نے بھی اس سوال بارے اندازے لگانا شروع کردیئے ہیں۔تجزیے کے مطابق عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنے سے قوم کو پونے 2 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی، سادہ رہائش اختیار کرنے سے عوام میں اعتماد پیدا ہوگا کہ ان کا وزیر اعظم انکے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع نہیں کرتا، وزیر اعظم ہاؤس 135ایکڑ رقبے پر پھیلی عالیشان عمارت ہے جو شاہراہ دستور پر واقع ہے، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2دہائیاں قبل اس عالیشان محل کا افتتاح کیا تھا، سرخ پتھروں اور اکھڑ مزاج محافظوں سے آراستہ اس عمارت کو مغل دور کے شاہی محلات کی طرز پر تعمیر کیا گیا،5وسیع وعریض باغیچے اور پھلوں کا ایک بڑا باغ وزیر اعظم ہاؤ س کا حصہ ہے، کئی ایک تالاب، تقریبات کیلئے ایک بڑا ہال اور کمیٹی رومز کی اچھی خاصی تعداد بھی اسی وزیر اعظم ہاؤس میں واقع ہیں، ملازمین، محافظین، پولیس اور وزیر اعظم کی خدمات پر مامور دیگر عملے کی رہائش گاہیں بھی وزیر اعظم ہاؤ س کے احاطے میں قائم ہیں،50 افسران پر مشتمل پروٹوکول دستہ ہمہ وقت آ بھگت کیلئے وزیر اعظم ہاؤس میں تیار رہتا ہے،

اس شاہی عمارت کی حفاظت پر سالانہ 980ملین روپے صرف کئے جاتے ہیں، وزیر اعظم ہاؤس کے عملے کیلئے 700ملین روپے مختص ہوتے ہیں، 150ملین روپے مہمانوں کے خیر مقدم اور تحائف جبکہ 15ملین سالانہ تزئین و زیبائش پر صرف کئے جاتے ہیں۔تجزیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سمجھتی ہے کہ اس عمارت میں قائد اعظم یونیورسٹی جیسے معیار کی چار جامعات قائم کی جاسکتی ہیں،

عمران خان بھی اس عمارت کو عوامی فلاح کیلئے استعمال میں لانے کا عندیہ دے چکے ہیں، عمران خان اپنے خطاب میں وزرا کالونی میں مقیم ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں،اطلاعات مل رہی ہیں کہ شاید عمران خان بطور وزیر اعظم سپیکر ہاؤس کو اپنے استعمال میں لانا چاہیں گے، عمران خان جہاں بھی رہیں تاہم وزیر اعظم ہاؤس منتقل نہ ہوکر وہ عوام کو واضح اور مثبت پیغام دیں گے،عوام پر عمران خان کے فیصلے کا نہایت مثبت اثر پڑے گا اور انکا یقین بڑھے گا کہ عمران جو کہتے ہیں اس پر پورا اترتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…