اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

’’ایک کروڑ نوکریاں اور دس لاکھ مکان‘‘ نعرہ نہیں رہا بلکہ حقیقت کا روپ دھارنے لگا، کپتان کے کمانڈر اسد عمر نے تیاری کر لی، شاندار منصوبہ سامنے لے آئے ، جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک کروڑ نوکریاں اور دس لاکھ مکان کیسے دیں گے، کپتان کے کمانڈر اسد عمرنے شاندار منصوبے کا خاکہ پیش کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہمارے منشور میں ایک کروڑ نوکریوں کا ذکر آیا کہاں سے یہ بتانا ضروری ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے تخمینے کے مطابق

ہر سال پاکستان میں 20لاکھ نوجوان ملازمت کے سلسلے میں مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔ ہمارا آئین یہ کہتا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پوری کوشش کرے کہ جو بھی شخص روزگار کی تلاش میں نکلے اس کو روزگار دیا جائے۔ ہمارا الیکشن کا جو وعدہ ہے یہ دراصل ہر حکومت کی آئینی ذمہ داری بھی ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی نے پہلی بار الیکشن لڑا اور اپنی پہلی اولین ترجیح یہ بنائی کہ نوجوانوں کو روزگار دینا ہے۔ ہم نے اس معاملے میں جن چیزوں کی نشاندہی کی تھی وہ یہ کہ ہم ان سیکٹرز کے اوپر فوکس کرینگےاور ہماری ترجیح وہ سیکٹرز ہونگے جن میں سب سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے اندر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز مینو فیکچرنگ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں، ٹورازم کی انڈسٹری ، ایجوکیشن ، ہیلتھ یہ ملازمتیں پیدا کرنیوالے سیکٹرز ہیں۔ اسی طریقے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پوری پالیسی کہ ہم نے کس طرح اس میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں بنائی ہے۔ اسد عمر نے دس لاکھ مکانات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جن کے پاس اپنی چھت نہیں ہے۔یہ بات اپنی جگہ مگر ان تمام انڈسٹریز میں سے جو انڈسٹری دوسرے شعبوں سے جڑی ہوئی ہے وہ ہائوسنگ کا شعبہ ہے ۔ہائوسنگ انڈسٹری 32دیگر انڈسٹریز کیساتھ جڑی ہوئی ہے

جس کے اثرات یہ 32انڈسٹریز قبول کرتی ہیں۔ جب ہماری توجہ ہائوسنگ پر ہو گی تو 32صنعتیں اس کے ساتھ اٹھیں گی اور ظاہر ہے اس سے ملازمتیں بھی پیدا ہونگی۔ اسد عمر نے اس موقع پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو گا کہ عمران خان صاحب ایک کروڑ سرکاری نوکریاں بانٹ رہے ہوں گے۔ سرکاری سطح پر بھی تعلیم اور صحت میں بھی نوکریوں کے مواقع پیدا ہونگے۔

مگر بنیادی طور پر ہدف نجی شعبے کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ اسد عمر نے حکومت سازی کے بعد معاشی فیصلوں کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت بنتے ہی ہماری پہلی ترجیح زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کو سنبھالنا اور ان میں بہتری لانا ہو گا اور اس کیلئے فوری فیصلوں کی ضرورت ہو گی جو کہ ہفتوں کے اندر ہو جائیں گے اس کیلئے مہینوں کا انتظار نہ تو کیا جا سکتا ہے

اور نہ ہی اس کا متحمل ہوا جا سکتا ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بزنس ایڈوائزری کونسل اور اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سامنے ہم اپنی سوچ رکھیں گے جو ہمارے منشور اور پالیسی کے اندر ہے اور ان دو پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک باقاعدہ فائنل پروگرام مرتب کیا جائے کیونکہ ہمارا پلان تحریک انصاف کا نہیں ہو گا بلکہ ہمارا پلان پاکستان کا پلان ہو گا۔ اور میری کوشش ہو گی کہ پاکستان کے بہترین ماہرین معیشت اور بزنس ماہرین اس پلان کو اوون کریں۔ کیونکہ ہماری سوچ ہے کہ یہ پلان اسد عمر یا عمران خان کا نہ ہو بلکہ پاکستان کا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…