بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

صدرممنون حسین کی پوزیشن اہم ترین ہوگئی، عمران خان ایوان میں مطلوبہ 172ارکان کی سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن ۔۔! پاکستان کے آئین میں کیا شرائط عائد ہیں؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جولائی  2018 |

اسلام آباد ( آئی این پی )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آئندہ کا وزیر اعظم منتخب کرانے کے لئے تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کو 172ارکان ایوان میں پورے کرنے کے لئے جن مشکلات کا سامنا ہے ، ان کا حل آئین کے آرٹیکل 91کی شق چار میں دیا گیا ہے اگر عمران خان کو ایوان میں 172ارکان کی سادہ اکثر یت قائد ایوان کے انتخاب کے پہلے مرحلے پر حاصل نہ ہو سکی تو ایوان میں دوبارہ رائے شماری ہو گی اور

ا س میں وزیر اعظم کے امیدوار عمران خان اور ان کے مد مقابل دوسرے نمبر پر قریب ترین ووٹ حاصل کر نے والے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہو گا ، اور ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار کو امنتخب وزیر اعظم قرار دے دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق آئین کے آرٹیکل 91 اور اس کی ذیلی شقوں میں سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب کا طریقہ کا ر موجود ہے ، جس کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اکیسویں دن ہو گا، تاوقتیکہ اس سے پہلے صدر اجلاس طلب نہ کرلے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد، قومی اسمبلی، کسی بھی دوسری کاروائی کو چھوڑ کر، کسی بحث کے بغیر، اپنے مسلم اراکین میں سے ایک کا وزیراعظم کے طور پر انتخاب کرے گی،وزیراعظم قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریت رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا، مگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کرلیتا ہے

اس کا منتخب وزیراعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا، مزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ ووٹ کی تعداد مساوی ہو جائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا تا وقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کرلے،نامزد رکن کو صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی جائے گی اور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے، تیسرے جدول میں بیان کردہ طریقہ کار میں

صدر کے روبروحلف اٹھائے گا مگر شرط یہ ہے کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کیلئے معیاد کی تعداد پر پابندی نہیں ہو گی۔کابینہ مع وزرائے مملکت اجتماعی طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو جواب دہ ہو گی،وزیراعظم صدر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا لیکن صدر اس شق کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرے گا تاوقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے،

جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کو طلب کرے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔وزیراعظم ،صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا،کوئی وزیر جو مسلسل چھ ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا کارکن نہ رہے، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیرنہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اسمبلی کارکن منتخب نہ ہو جائے، مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں شامل کسی امر کا ایسے وزیر پر اطلاق نہیں ہو گا جو سینیٹ کا رکن ہو)



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…