ناروے سرد ملک ہے‘ الگ تھلگ ہے‘ بے حد خوشحال ہے‘ آبادی پانچ ملین ہے‘ دنیا بھر سے امیگرنٹس یہاں پہنچے اور بس گئے‘ ستر فیصد امیگرنٹس کا تعلق یورپی ممالک سے ہے‘ ناروے کا سوشل ویلفیئر سسٹم دنیا بھر میں مثالی ہے‘ ناروے کے باسی اور انتظامیہ نئے آنے والے امیگرنٹس کو ویلکم کہتے ہیں۔
ناروے کے قانون میں سزا ئے موت کا کوئی نام و نشان نہیں ۔ قانون ہر طرح کے جرائم کے لئے موجود ہے ۔ ہر قانون شکن کو سزا دی جاتی ہے ۔ ناروے میں جرائم کی شرح بڑ ھ رہی ہے اور اس کے مقابلے میں جیلیں تنگ پڑ رہی ہیں۔ناروے کا منصوبہ ہے کہ اپنے ہاں سزا کے منتظر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد‘ جیلوں کی تزئین و آرائش اور گنجائش میں کمی کے تناظر میں ہالینڈ کی جیلیں کرائے پر حاصل کرے۔ یہ بات ناروے کی وزارتِ انصاف کی جانب سے کہی گئی ہے۔ناروے میں متعدد ملزمان اپنی سزاؤں کے منتظر ہیں‘ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ناروے میں جیلوں کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے‘ اس بناء پران قیدخانوں میں گنجائش کی کمی درپیش ہے یہی وجہ ہے کہ شمالی یورپ کی یہ ریاست ہالینڈ کی جیلیں کرائے پر حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ناروے کی جیلیں قیدیوں کے لیے بہتر سہولیات کی وجہ سے مشہور ہیں‘تاہم وہاں جیلوں میں گنجائش کی کمی کی وجہ سے13سو قیدی اپنی سزاؤں کے منتظر ہیں۔ ناروے کی جیلوں میں وہ قیدی جو ایسے جرائم کی سزا کاٹ رہے ہوں‘



















































