منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انتخا بی دھاندلی سے چھٹکارا پانے کے لئے الیکشن ریفامز ہونی چاہئیں ، رحمان ملک

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ چار الیکشن میں دھاندلی سوالیہ نشان تھی‘ جرگے کی کوششوں سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہوئی‘ ذوالفقار مرزا نے بدین تھانے میں جو کچھ کیا وہ قانون کے رکھوالے نہیں کیا کرتے‘ ذوالفقار مرزا جب ہوم منسٹر تھے اس وقت میرے پاس آئے اور کہا کہ لیاری میں ایکشن نہ کرنا‘ گزشتہ پانچ سال ذوالفقار مرزا کہاں رہے‘ قانون بنانے والوں کے ساتھ رہے یا قانون توڑنے والوں کے ساتھ یہ کوئی نہیں جانتا‘ ایان علی کے ساتھ اگر میرے بھائی کا تعلق ثابت ہو جائے تو استعفیٰ دے دوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد دھاندلی میں خاصی کمی ہو گی۔ گزشتہ چار الیکشن میں دھاندلی سوالیہ نشان تھی کبھی بیلٹ باکس چوری ہوئے اور کبھی ایکسٹرا بیلٹ پیپر چھپائے گئے۔ پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ الیکشن ریفامز ہونے چاہئیں تاکہ دھاندلی سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پایا جا سکے۔ جوڈیشل کمیشن نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا دھاندلی ہوئی یا نہیں اگر دھاندلی ہوئی تو کیا منظم دھاندلی تھی اس وقت جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اچھی جا رہی ہے اور امید ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے تاریخ رقم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے جو کچھ بدین میں کیا وہ قانون کے رکھوالے نہیں کرتے جب وہ ہوم منسٹر تھے تو میرا پاس آئے کہ آپ پورے ملک میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آپریشن کریں لیکن لیاری میں ایکشن نہ لیں۔ ذوالفقار مرزا نے جو الزامات فریال تالپور اور آصف زرداری پر لگائے وہ کسی مہذب انسان کو زیب نہیں دیتے۔ اگر میرا منہ کھلا تو میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ ائیرپورٹ پر کس کو اپنی بیوی کے ہاتھوں تھپڑ پڑے تھے۔ آصف زرداری پر ایک سازش کے تحت الزامات لگائے جا رہے ہیں اور یہ الزامات لندن سے چابی ملنے پر لگائے جاتے ہیں۔ ذوالفقار مرزا ڈیل کرنے کے ماہر ہیں گزشتہ پانچ سال وہ کہاں رہے قانون بنانے والوں کے ساتھ رہے یا قانون توڑنے والوں کے ساتھ یہ کوئی نہیں جانتا۔ اگر انہوں نے رحمان ملک کا نام لینا ہے تو پھر دونوں طرف سے تالیاں بجیں گیں۔ ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ اگر میرے بھائی کا ایان علی سے تعلق ثابت ہو جائے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ میرے کسی فیملی ممبر کا ایان علی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…