بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی چاول کی امریکی منڈیوں تک رسائی کی یقین دہانی

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل نے پاکستانی چاول کو امریکی مارکیٹ تک زیادہ سے زیادہ رسائی کیلیے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ا?ف پاکستان (ریپ)کو امریکا کی مارکیٹ کا جائزہ لینے اور بریانی فیسٹیول منعقد کرنے کی پیشکش کردی ہے۔گزشتہ روزمقامی ہوٹل میں ریپ کی جانب سے کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ نے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانہ میں خطاب کے دوران کہا کہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو امریکی مارکیٹوں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوسکے۔ ظہرانے میں بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی، ٹی ڈیپ کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر،ایف پی سی سی آئی کے سینئرنائب صدر عبدالرحیم جانو، ریپ کے چیئرمین رفیق سلیمان اور سابق ممبر منیجنگ کمیٹی ریپ شاہد تواوالا نے بھی خطاب کیا۔ امریکی قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی رائس ایکسپورٹرز وفد کی صورت میں امریکا کا دورہ کریں اور وہاں بریانی فیسٹیول بھی منعقد کیا جائے۔
40 برس پہلے تک امریکا میں اطالوی کھانوں کوپسند کیا جاتا تھا لیکن اب امریکی چاول شوق سے کھاتے ہیں اور یہ چاول پاکستان سمیت بھارت،تھائی لینڈاور دیگر ممالک سے منگوایا جاتا ہے۔برائن ہیتھ نے پاکستانی تاجروں سے کہا کہ وہ امریکی مارکیٹوں کا جائزہ لیں اور جہاں بھی پاکستانی مصنوعات کی کھپت ممکن ہوانہیں وہاں تک پہنچائیں، بالخصوص پاکستانی چاول کی امریکا ایکسپورٹ کے وسیع مواقع ہیں،ہم پاکستانی تاجروں سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا سے کنسلٹنٹ پاکستان بلائے جائیں گے تاکہ وہ پاکستانی ایکسپورٹرز کو یہ بتاسکیں کہ امریکا کے سپر اسٹورز، وال مارٹ وغیرہ میں چاول کس طرح فروخت کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو نہ صرف پاکستانی چاول کی امریکا کو ایکسپورٹ ڈیڑھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ریپ کے چیئرمین رفیق سلیمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستانی چاول دنیا بھر میں اپنے ذائقہ اور خوشبو کے باعث بے حد پسند کیا جاتا ہے اور مشہور ہے، امریکا نے رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے4لاکھ ٹن چاول درآمد کیا ہے جس میں سے پاکستان سے صرف15ہزار ٹن چاول خریدا گیا ہے جس میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریپ کے وفد کے دورہ امریکا سے دوطرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے اور ہم سپراسٹورز اورچین اسٹورز سمیت دیگر مارکیٹوں کا دورہ کیا جائے گا جس کیلئے امریکی سفارتخانہ اور امریکی قونصلیٹ ریپ کے ساتھ تعاون کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی کسانو ں کے پاس جدید مشینری اور آلات نہیں ہیں جس کی وجہ سے 10سے20فیصد فصل کو نقصان پہنچتا ہے،امریکا اپنے یو ایس پروگرام میں پاکستانی کسانوں کی ترقی کو بھی شامل کرے اور انکی سپورٹ کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…