جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

نیلم جہلم پروجیکٹ کے نام پر عوام سے 65ارب روپے نکلوائے گئے اب بجلی کی بلوں میں کونسا سرچارج شامل ہونے جا رہاہے، دھماکہ خیز خبر آگئی

datetime 21  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صارفین کی جیبوں سے زبردستی پیسہ نکلوانے کا پلان تیار، بڑوں نے رضامندی ظاہر کر دی، نیلم جہلم کے بعد اب دیامیر ، بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے عوام پر سرچارج بم گرانے کا فیصلہ۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 4500میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے مہنگے ترین منصوبے کیلئے قائم فنڈ میں رقم اکٹھی کرنے کے بعد

اب واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے غریب عوام پر نیلم جہلم سرچار کے بعد دیامر بھاشا سر چارج لگانے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)مزمل حسین نے بھی اس تجویز پر غور کے حوالے سے تصدیق کر دی۔ واپڈا کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دیامر بھاشاسر چارج کی مد میں غریب عوام سے زبردستی پیسہ نکلوانے کی تجویز پر تمام سٹیک ہولڈرز نے رضامندی کا اظہار کر دیا ہے تاہم اس معاملے کو قانونی تحفظ فراہم کرنےکیلئے نیپرا سے مشاور ت کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب وزارت خزانہ اور اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سفارشات مرتب کر لی گئی ہیں۔ ملک میں جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود فروری 2008میں واپڈا نے نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے عوام سے بلوں میں 10پیسے فی یونٹ کے حساب سے نیلم جیلم سر چارج لینا شروع کیا۔ عوام سے مجموعی طور پر 65ارب روپے سے زائد رقم بجلی کے بلوں میں سرچارج کی مد میں وصول کی گئی۔ نیلم جہلم کے بعد اب دیامر بھاشا سر چارج کی تجویز زیر غور لیکن اس چارج کے نفاذ کا کل دورانیہ اور شرح کے حوالے سے تاحال پالیسی کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ )مزمل حسین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ڈیڑھ سے

دو ارب امریکی ڈالر ۔کی مالی معاونت کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ ان ڈیموں کی تعمیر کیلئے نقد قرضے ، سکوک اور فارن بانڈ بھی فلوٹ کئے جائیں گے تاکہ ان منصوبوں کی راہ میں حائل مالیاتی رکاوٹوں سے بطریق احسن نمٹا جا سکے۔ اس حوالے سے نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر علی ظفر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو قومی کاز کیلئے حصہ ڈالنا ہو گا جبکہ حکومت بھی اس حوالے سے پرعزم ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…