جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

کے ٹو پر ایک مرتبہ پھر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا 4پاکستانیوں نے دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘سر کر لی

datetime 21  جولائی  2018 |

گلگت (نیوز ڈیسک) چار پاکستانیوں سمیت کوہ پیمائوں کی 31رکنی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی’’کے ٹو‘‘ سر کرلی، پاکستان کی نمائندگی محمد علی سدپارہ، امتیاز سدپارہ، فدا علی اور علی موسیٰ نے کی۔ ہفتہ کو کوہ پیمائوں کی 31رکنی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی’’کے ٹو‘‘ سر کرلی،

کے ٹو سر کرنے والی ٹیم میں چار پاکستانیوں سمیت مختلف ملکوں کے کوہ پیما شامل ہیں، پاکستان کی نمائندگی محمد علی سدپارہ، امتیاز سدپارہ، فدا علی اور علی موسیٰ نے کی۔ ٹیم میں چین، نیپال، آئرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، میکسیکو، بیلجیئم اور جاپان کے کوہ پیما شامل تھے، گلگت بلتستان میں واقع کے ٹو چوٹی 8611میٹر بلند ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…