بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

جوڈیشل کمیشن میں سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انورکابھی اعتراف کرلیا

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں تحریک انصاف کے تیسرے گواہ سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انورنے بیان ریکارڈ کرا تے ہوئے کہاہے کہ بعض ریٹرننگ افسران نے رجسٹرڈ ووٹر زکی تعداد سے زائد بیلٹ پیپر چھاپنے کا کہا تھا۔ مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنیوالے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں تحریک انصاف کے تیسرے گواہ سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انورنے بیان رکارڈ کرایا۔ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے گواہ سے جرح کی ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ کس حلقے کیلئے کتنے بیلٹ پیپر درکار ہیں، اس کا فیصلہ ریٹرننگ افسر کرتا ہے ، ریٹرننگ افسران نے جتنے بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ کی اتنے ہی چھاپے گئے۔ حفیظ پیرزادہ نے سوال کیا کہ کیا ایسے بھی ہوا کہ ریٹرننگ افسران نے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زائد بیلٹ پیپرچھاپنے کی درخواست کی اور اس پر عمل ہوا ؟ محبوب انور نے جواب دیا کہ یہ درست ہے کہ بعض ریٹرننگ افسران نے اکثر حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد سے زائد بیلٹ پیپر چھاپنے کا کہا تاہم درست تعداد ان کے علم میں نہیں۔ حفیظ پیرزادہ کے سوال پرانہوں نے بتایاکہ انتخابات سے تین دن پہلے پرنٹڈ میٹریل ریٹرننگ افسران تک پہنچنا ضروری ہے ، مگر ایسانہ ہوسکا،حفیظ پیرزادہ نے یہ استفسار بھی کیا کہ الیکشن شیڈول ڈسٹرب ہونے پر کوئی جواب طلبی ہوئی؟ اس پر محبوب انور بولے کہ بیلٹ پیپرز الیکشن کمیشن کی نگرانی میں چھپ رہے تھے، تاخیر پر ہم سے کیوں پوچھا جاتا۔سابق صوبائی الیکشن کمشنرمحبوب انورنے جوڈیشل کمیشن کوبتایاہے کہ عام انتخابات کے دوران ریٹرننگ افسروں نے سوفیصدسے زائد بیلٹ پیپرز کے لئے درخواستیں دی تھیں۔ اضافی بیلٹ پیپرزچھاپنے کی اعلی حکام سے اجازت نہیں مانگی تھی بلکہ تحریری طورپرآگاہ کردیاتھا ۔ عام طورپر انتخابی مواد الیکشن سے تین دن قبل حلقوں تک پہنچتاہے تاہم ہم ایسانہیں کرسکے۔اس موقع پر کمیشن کے رکن جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ آپ کوجوسوال کیااس کے مطابق جواب دیں۔ جس پر محبوب انور نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے ریٹرننگ افسروں نے سوفیصدسے زائد بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی درخواستیں کی تھیں۔پی ٹی آئی کے وکیل نے پوچھا کہ سکیورٹی پرنٹنگ پریس نے اپنے خط میں بھی ذکرکیاتھاکہ بیلٹ پیپرزکی چھپائی کاکام انیس اپریل کوشروع ہواجسے پانچ مئی تک مکمل کرلیا گیاتھا،جس پرمحبوب انورنے بتایا کہ سکیورٹی پرنٹنگ پریس کاخط میرے علم میں نہیں،چیف جسٹس نے محبوب انورپر(آج) جمعہ کو بھی جرح جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…