منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جج کی ذوالفقار مرزا کےخلاف مقدمات کی سماعت سے معذوری کااظہار

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

حیدرآباد(نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت بدین کے جج عبدالغفور میمن نے سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف بدین کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات کی سماعت سے معذوری کا اظہار کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ سے درخواست کی ہے یہ مقدمات کسی اور عدالت میں بھیجے جائیں۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت حیدرآباد جس کے دائرے میں ضلع بدین بھی شامل ہے جس کے جج عبدالغفور میمن نے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف گذشتہ ہفتے کے دوران بدین کے مختلف اضلاع میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے تمام مقدمات کی سماعت سے معذوری کا اظہار کیا ہے اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس فیصل عرب کو ایک ریفرنس بھیجا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان مقدمات کی سماعت کرنے سے معذور ہیں اس لئے یہ مقدمات کسی اور عدالت میں بھیجے جائیں، چیف جسٹس آفس نے یہ ریفرنس ہائیکوٹ کے ممبر انسپکشن ٹو کو بھیج دیا ہے جہاں اس کا جائزہ لینے کے بعد کسی اور عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا، فاضل جج نے مقدمات نہ سننے کی کوئی وجہ ریفرنس میں نہیں بتائی ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا جب وکیل کی حیثیت سے پریکٹیس کر رہے تھے تو عبدالغفور میمن نے ان کے جونیئر کی حیثیت سے کام کیا تھا۔یاد رہے کہ 4 مئی کو ذوالفقار مرزا نے سندھ ہائیکورٹ سے 6 مئی تک کے لئے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی لیکن اس دوران بڑے پیمانے پر پولیس کی نفری درجنوں بکتربند گاڑیوں اور پولیس موبائلوں کے ساتھ مرزا فارم ہا?س بدین پر تعینات کرکے ان کا گھر سے نکلنا ناممکن بنا دیا گیا تھا جس پر 6 مئی کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکلائ نے سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جو مسٹر جسٹس شوکت میمن اور مسٹر جسٹس نعمت اللہ پر مشتمل ڈویڑن بینچ کے سامنے پیش کی گئی تھی مگر جسٹس شوکت میمن نے بعض وجوہ کی بنا پر یہ درخواست سننے سے معذوری کا اظہار کر دیا تھا

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…