جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

’’20کروڑ کی چائے کیسے پی لی؟تحریک انصاف بتائے‘‘ چیئرمین نیب کا دھماکہ دار ایکشن، بڑا حکم جار ی کر دیا

datetime 20  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخواہ حکومت نے گزشتہ 3سالوں میں مہمانوں کی خاطر دار ی کیلئے 20کروڑ روپے صرف چائے پر خرچ کر دیئے لی ۔ نیب نے کروڑوں کی چائے پی جانے والی تحریک انصاف کو آڑھے ہاتھوں لے لیا ۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر )جاوید اقبال نے ادارے کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی ایسے ایسے کیسیز کو نمٹایا کہ پاکستانی عوام کو بھی داد دینے پر مجبور ہوگئی ۔

انہوں نے کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے جبکہ اس حوالے سے ن لیگ خاصی پریشان دکھائی دیتی ہے اور اپنی مختلف تقریر میں یہ کہتی ہے کہ نیب کی حالیہ کاروائیاں سیاسی انتقام سے بڑھ کر نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف شریک چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری بھی نیب کے ریڈار میں آچکے ہیں ۔ بے نامی بینک اکاونٹس کےسلسلے میں انکا نام ایک مقدمے میں داخل کیا جا چکا ہے۔عمران خان کو بھی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذاتی استعمال پر نیب میں بلایا جاچکا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کو بڑی مشکل کا سامنا کر نا پڑ گیا ہے ۔ گزشتہ تین سالوں میں کے پی کے حکومت نے مہمانوں کی خاطر داری کیلئے 20کروڑ روپے خرچ کر دیئے ۔ نیب نے ایکشن لیتے ہوئے تحریک انصاف کو آڑھے ہاتھو لے لیا ہے ۔ نگران حکومت خیبر پختونخواہ نے کے پی ہائوس اسلام میں میں 20کروڑ روپے کی چائے پر خرچ کرنے کیخلاف نیب سے رابطہ کر لیا ہے ۔ نگران حکومت نے نیب کو مراسلہ بھیجا ہے جس کے مطابق یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس پر نیب کو تحقیقات کرنی چاہیں اور ہم ان کیساتھ تعاون کریں گے ۔ مراسلہ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے۔ نیب نے تحقیقات کے لیے نگراں حکومت کی درخواست منظور کر لی ہے۔یاد رہے کہ کچھ روز قبل منظر عام پر آنے والی خبر کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گذشتہ تین سالوں کے دوران مہمانداری پر 20 کروڑ سے زیادہ رقم خرچ کی گئی، سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم سابق وزیراعلی پرویز خٹک،، شیریں مزاری، عمران خان،، اسد عمر،، اعظم سواتی اور شاہ محمود قریشی کے چائے پانی پر خرچ ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…