غالب نے اڑھائی سو برس پہلے پیشین گوئی کی تھی ’’کاغذی ہے پیراہن ہر پیکر تصویر کا‘‘جو سچائی کا روپ دھار چکی ہے۔ انسان ترقی کی منازل کو روز بروز طے کرتا چلا جا رہا ہے اور نئی نئی اور انوکھی ایجادات بھی سال چھ ماہ بعد معمول کا حصہ لگنے لگتی ہیں۔ زندگی کو آسان سے آسان بنانے کے کے سائنس دان ہر لمحہ سرگرم عمل ہیں ۔ ہم اس مضمون میں ایک انوکھی ایجاد کی بات کریں گے جو مستقبل میں معمول کا حصہ ہوگی۔کیا اس وقت کوئی اس بات پر یقین کر سکے گا کہ آئندہ برسوں میں ہم ایسے ملبوسات بھی زیب تن کیا کریں گے جو کاغذ کے بنے ہوں گے؟ کاغذی ملبوسات تیار کرنے کا خیال سب سے پہلے 1966ء میں کنساس سٹی امریکا کی سکاٹ پیپر کمپنی کے مالک جان سکاٹ کے ذہن میں پیدا ہوا۔ جس نے اپنی کمپنی کے حصہ داروں کی مشاورت سے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’’پہنئے اور پھینک دیجئے‘‘ قسم کے کاغذی ملبوسات کی مینو فیکچرنگ شروع کی۔ اس وقت یوں معلوم ہونے لگا تھاگویا ملبوسات کی صنعت میں ایک انقلاب برپا ہونے والا تھا۔ ان کاغذی ملبوسات کی بڑے وسیع پیمانے پر تشہیر کروائی گئی۔ اندرون و بیرون ملک اخبارات میں ان کے بارے میں خبریں شائع کروائی گئیں۔ جس کے نتیجے میں ان کاغذی ملبوسات کو تیار کرنے والی اسکاٹ پیپر کمپنی کو ہزاروں کی تعداد میں آرڈر ملنا شروع ہوگئے۔ ڈیلروں اور تقسیم کنندگان نے اس نئی اور نرالی ایجاد کے بارے میں چھان پھٹک شروع کر دی۔ اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ دراصل اسکاٹ کمپنی والوں نے اپنی دوسری کاغذی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے کاغذی لباس کو ایک پبلسٹی سٹنٹ کے طور پر استعمال کیا تھالیکن اس وقت کاغذی لباسوں کی تیاری واقعی عمل میں آ چکی تھی۔ ہر چند کہ یہ محدود پیمانے پر تھی۔ انھیں پان امریکن ائیر ویز کے ہوائی جہازوں کے فضائی میزبانوں کے ہلکے نیلے رنگ کے یونیفارموں کے ہم رنگ بالا پوشوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ انھیں باورچی خانوں میں بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک مرتبہ استعمال کے بعد یہ پھینک دیے جاتے تھے۔



















































