منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں پانی کا بحران،اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) کراچی میں پانی کا بحران شدید ہوگیا،واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک کے جھگڑے کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے 5 پمپنگ اسٹیشنز پر4 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے،جس کے باعث شہرکو175 ملین گیلن یومیہ پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ایم ڈی واٹر بورڈ نے کے الیکٹرک سے پمپنگ اسٹیشنز پر لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی درخواست کی۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں گرمی اضافے کے ساتھ ہی کراچی میں پانی کا بحران سنگین ہو گیا ہے جس کے باعث شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ پانی چوری بحران کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ واجبات کی عدم ادائیگی پر کے الیکٹرک اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے درمیان تنازع اب تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ واٹر بورڈ حکام کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والے پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کے باعث بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ شہر میں پہلے ہی 560 ملین گیلن یومیہ پانی کی قلت ہے۔ اس وقت شہر کو روزانہ 1000 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ 650 ملین گیلن روزانہ فراہم کیا جاتا ہے۔ شہر بھر کو 350 ملین گیلن پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ پانی کی چوری بھی واٹر بورڈ کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کا موقف ہے کہ واٹربورڈ ماہانہ بلوں کی ادائیگی کے علاوہ واجبات کی مد میں بھی ادائیگی نہیں کرتا،سندھ حکومت نے بجٹ میں5ارب روپے واٹربورڈ کی ادائیگی کی مد میں مختص کیے تھے۔ تاہم آج تک یہ ادائیگی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو ادائیگی نہ کی گئی توپمپنگ اسٹیشنز کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں پانی کی قلت کے باعث انہیں بہت سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ واٹر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ شہر کی آبادی بڑھنے کے باعث پانی کی ضرورت بھی بڑھ چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…