منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کی گرفتاری کے بعد کیان لیگ الیکشن بائیکاٹ کر دیگی؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے بریکنگ نیوز دیدی

datetime 9  جولائی  2018 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماء سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس ملک میں الیکشن متنازع ہو جائیں وہاں حکومت بھی کمزور ہوتی ہے، میرا نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہی ہے، نواز شریف کاکہنا ہے کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہنا چاہیے، اداروں میںہم آہنگی نہیں ہو گی تو ملک ترقی نہیں کرے گا، اصغر خان کیس میں سب کا ٹرائل ہونا چاہیے ،

سیاستدان آج بھی کندھے فراہم کرر ہے ہیں گزشتہ 70 سال میں ہم نے کچھ نہیں سیکھا اتوار کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ ہم نے اپنی مدت پوری کی ۔ نگران حکومت کا ایک دن بھی مقرروہ وقت سے زیادہ گزارنا ملک کو پیچھے لے جائے گا ۔ آئین کے مطابق 60 دن میں الیکشن کرانا ضروری ہے ۔ نگران حکومت محض الیکشن کروانے آئی ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن کے بائیکاٹ کی پارٹی میں کوئی بات نہیں چل رہی ۔ 2002 کا الیکشن سیاسی پارٹیوں کے لئے بدترین تھا ۔ کنپٹی پر پستول رکھ کر امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں سے توڑا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں انتخابات متنازع ہو جائیں وہاں حکومت بھی کمزور ہوتی ہے ۔ میرا بیانیہ نواز شریف کا بیانیہ اور شہبازشریف کا بیانیہ ایک ہی ہے اور نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہنا چاہیے ۔ اداروں میں ہم آہنگی نہیں ہو گی تو ملک ترقی نہیں کرے گا ۔ پاکستان کے عوام ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اصغر خان کیس میں سب کا ٹرائل ہونا چاہیے ۔ سیاستدان آج بھی کندھے فراہم کر رہے ہیں ۔ ہم نے 70 سالہ تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھا ۔ نیب کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ ادارہ ڈکٹیٹر نے سیاستدانوں کو توڑنے کے لئے بنایا گیا ۔ کرپشن روکنے کے لئے ٹیکس قوانین استعمال کرنے ہوں گے ۔

رہنماء مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جو لوگ پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی ۔ چوہدری نثار کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہیے تھا ۔ ان کو پارٹی ٹکٹ نہ دیتی تو گلہ بنتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم بنائے بغیر ملک میں پانی کا مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا ۔ پانی کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے ۔ کراچی کو اضافی پانی دینے پر باقی صوبوں نے اعتراض کیا تھا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مراد علی شاہ کہتے ہیں میں سول انجینئر ہوں ڈیمز کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ فاٹا اصلاحات 70 سال پہلے ہونی چاہیے تھی جو ہم نے کیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…