منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعد رفیق نے ہلہ دودھ بند کرایا، الیکشن نتیجہ بددعاﺅں کا نتیجہ ہوسکتاہے:سینئر صحافی

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک سینئر صحافی نے انکشاف کیاکہ سعد رفیق سے اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تھانوں میں پٹائی کرانے اور قوم کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دودھ مہنگے نرخوں خریدنے پر مجبور کرنے کی وجہ سے انہیں بددعائیں بھی لگیں جس کی وجہ سے اپنی نشست سے ہاتھ بیٹھے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیاکہ کچھ سال قبل تک لاہورمیں دستیاب ’ہلہ‘دودھ کو خواجہ سعد رفیق نے بند کرایا اوران لوگوں کیساتھ مل کر یہ بندکرایاگیاجن کے ‘شاہی خاندان ‘کے بچوں نے کاروبارکیا۔ان کاکہناتھاکہ ڈاکٹرظفرالطاف ایک غیر متنازع شخصیت ہیں اور وہ سعد رفیق کی ہی وجہ سے 72سال کی عمر میں بھی عدالت کے چکر لگارہے ہیں ، وہ سعد رفیق پر ناراض بھی تھے حالانکہ ہلہ دودھ ”کسان ادارے“ کا تھا اورڈاکٹرظفرالطاف اعزازی چیئرمین تھے۔ یہ ادارہ دیہی علاقوں میں چھبیس ہزارخواتین سے دودھ لے کے فروخت کر رہاتھا اور مارکیٹ میں دستیاب تمام کمپنیوں کے دودھ سے سستا پڑرہاتھا جس کی وجہ سے باقی کمپنیوں کو خطرہ محسوس ہوا۔ ہلہ دودھ 48یا50روپے جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں 120روپے فی لٹر بیچ رہی ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے ان لوگوں کیساتھ مل کر ’کسان‘ کے ایگزیکٹوز کو جیل میں بندکرایا اور ان پر مقدمات بنادیئے ، تھانوں میں باقاعدہ مارپیٹ کروائی گئی اور تاحال متاثرین عدالتوں میں دھکے کھارہے ہیں۔ان کامزید کہناتھاکہ وہ ایک دیہاتی ہیں اورتھوڑے وہمی بھی ہیں ، خواجہ سعد رفیق کو اکیلے میں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے عملے یا مخالفین کے علاوہ یہ ا±نہی لوگوں کی بددعائیں کا نتیجہ بھی ہے۔

مزید پڑھئے:فیس بک استعمال کرنے والے افراد کی ماہانہ تعداد ایک ارب 44 کروڑ تک پہنچ گئی

اورتھوڑے وہمی بھی ہیں ، خواجہ سعد رفیق کو اکیلے میں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے عملے یا مخالفین کے علاوہ یہ انہی لوگوں کی بددعائیں کا نتیجہ بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…