تیس اپریل 1945ءکو دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکی فوجی دستوں نے میونخ شہر کو ’آزاد‘ کروایا تھا، اسی روز نازی آمر اڈولف ہٹلر نے خود کشی کی تھی اور اب تیس ہی اپریل کو میونخ میں ایک نئے عجائب گھر کا افتتاح ہو رہا ہے۔یہ عجائب گھر عین اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے، جہاں پہلے اڈولف ہٹلر کی سیاسی جماعت NSDAP یعنی ’نیشنل سوشلسٹ جرمنز ورکرز پارٹی‘ کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا۔ گویا میونخ ایک طرح سے نازی تحریک کا گڑھ تھا۔ ایسے میں اس جنوبی جرمن شہر میں اس طرح کا کوئی عجائب گھر بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا۔ میوزیم کے ڈائریکٹر وِنفریڈ نیرڈِنگر نے اس امر کا اعتراف کیا کہ ہٹلر کی پارٹی کے گڑھ کے طور پر میونخ کو اس طرح کا ایک مرکز قائم کرنے میں بلاشبہ بہت وقت لگ گیا ہے۔یہودیوں کو اذیتی کیمپوں میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھی میونخ شہر نے کلیدی کردار ادا کیا اور ایسا پہلا کیمپ میونخ کے نزدیک ہی ڈاخاو کے مقام پر بنایا گیا۔
اس عجائب گھر کی سفید رنگ کی چوکور عمارت کا افتتاح عین اس روز عمل میں آ رہا ہے، جب امریکی دستوں کے ہاتھوں میونخ کو ’آزاد‘ کروائے جانے کی ستّر ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ستّر ہی سال پہلے اِسی دن نازی ڈکٹیٹر اڈولف ہٹلر نے برلن میں ایک تہہ خانے میں خود کشی کر لی تھی۔ افتتاحی تقریب میں سیاسی رہنماوں کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ امریکی فوجی اور ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے بزرگ بھی شرکت کر رہے ہیں۔1919ءمیں میونخ ہی میں جرمن ورکرز پارٹی (DAP) کا قیام عمل میں آیا تھا اور اسی سال اڈولف ہٹلر نے اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایک ہی سال بعد 1920ءمیں یہ جماعت NSDAP کی شکل اختیار کر گئی۔ ہٹلر کے برسرِاقتدار آ جانے کے بعد ملک بھر میں صرف اس ایک سیاسی جماعت کو سرگرم ہونے کی اجازت تھی۔تیس جنوری 1933ءکو ہٹلر کے برسرِاقتدار آنے کے بعد میونخ ہی سے ان معاہدوں کی داغ بیل ڈالی گئی، جن کا مقصد ہمسایہ یورپی ممالک کو جرمنی کا اطاعت گزار بنانا تھا۔ میونخ ہی میں یہودیوں کے خلاف اس ملک گیر تحریک کا آغاز ہوا، جس کے تحت ملک بھر میں یہودیوں کے رہائشی مکانات، دوکانوں اور عبادت کے مراکز کو نشانہ بنایا جانے لگا۔میونخ شہر نے یہودیوں کو اذیتی کیمپوں میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا اور ایسا پہلا کیمپ میونخ کے نزدیک ہی ڈاخاو کے مقام پر بنایا گیا۔ بعد ازاں اس طرح کے کیمپوں میں لاکھوں یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے ظلم کی ایک منفرد داستان رقم کی گئی۔ڈائریکٹر وِنفریڈ نیرڈِنگر کے مطابق یہ روایتی معنوں میں میوزیم نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا دستاویزی مرکز ہے، جس کا مقصد اس دور کے ہولناک واقعات کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ان سے سبق سیکھنا ہے۔
چنانچہ کسی روایتی عجائب گھر کی طرح اس مرکز میں چار منزلوں پر سجائی گئی نمائش میں ہٹلر کی سیاسی جماعت کے استعمال میں آنے والی اَشیاءیا اس دور کی فوجی وردیاں اور پرچم وغیرہ سجا کر نہیں رکھے گئے بلکہ ایسی دستاویزات رکھی گئی ہیں، جن سے ہٹلر حکومت کے مظالم کی تصویر کشی ہوتی ہے۔اس نمائش میں رکھی گئی اَشیاء سے ا±ن افراد کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے، جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی مزاحمت کا علم بلند کیے رکھا۔ مثلاً ان اَشیائ میں وہ ورق بھی شامل ہے، جس پر مزاحمتی تحریک کے ایک نمایاں رکن البریشت ہاوس ہوفر کے ہاتھ کی لکھی ہوئی شاعری موجود ہے۔ البریشت ہاو¿س ہوفر کو دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں موت کی سزا دے دی گئی تھی اور اس ورق پر ابھی تک اس کے خون کے دھبے دیکھے جا سکتے ہیں۔اس مرکز میں چار منزلوں پر سجائی گئی نمائش میں ایسی اَشیائ رکھی گئی ہیں، جن سے ہٹلر حکومت کے مظالم کی تصویر کشی ہوتی ہے۔اس میوزیم میں نمائش میں رکھی تینتیس بڑی تصاویر میں ایک یہودی قانون دان مشائیل زیگل کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، ایک بار 1922 میں جرمن صوبے باویریا کے روایتی لباس میں اپنے گھنگھریالے سنہری بالوں والے بیٹے کے ساتھ اور ایک بار 1933 میں ننگے پاوں میونخ کی سڑکوں پر اس ذلت آمیز حالت میں کہ گلے میں ایک تختی ہے، جس پر لکھا ہے، ’مَیں آئندہ کبھی پولیس سے شکایت نہیں کروں گا‘۔یہ میوزیم نازی دور کے مظالم کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھنے کے عزم کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ اس میں لگی نمائش میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے مختلف مواقع پر فائرنگ اسکواڈ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں، کیسے مرنے والوں کی لاشوں کے انبار لگے ہیں، کیسے قطار در قطار مرنے والوں کے تابوت پڑے ہیں۔
اس میوزیم کی لائبریری میں ان کتابوں کے ٹائیٹل بھی رکھے گئے ہیں، جنہیں نازیوں نے اپنی سوچ اور فلسفے سے متصادم سمجھتے ہوئے دَس مئی 1933ءکو میونخ ہی میں جلا دیا تھا۔ مختلف میزوں پر جا کر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے نازی سوشلسٹوں کے نسل پرستی، سامی دشمنی اور قوم پرستی کے نظریات کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔اس میوزیم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ جہاں ہٹلر کا ساتھ دینے والے بہت سے اعلیٰ عہدیداروں کو سزاوں کا سامنا کرنا پڑا، وہیں بہت سے ایسے بھی تھے، جو وفاقی جمہوریہ جرمنی کے قیام کے بعد بھی برسوں تک سرکردہ عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔






















































