جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

منشیات اور الکحل کا ٹیسٹ،شرابی امیدواروں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے بڑا قدم اُٹھالیاگیا،الیکشن کمیشن کا حیرت انگیز جواب

datetime 20  جون‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 میں شراب اور منشیات استعمال کرنے والے امیدواروں کو انتخابی عمل سے روکنے سے انکار کر دیا ہے ۔ کراچی کے ایک شہری نثار احمد شیخ نے ایک مکتوب کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا سے درخواست کی تھی الکحل اور منشیات کے استعمال کا پتا لگانے کے لیے تمام امیدواران کے لیے خون اور پیشاب کے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں ۔ جن امیدواران کے یہ ٹیسٹ مثبت آئیں

انہیں عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے ۔ نثار احمد شیخ نے اپنے مکتوب میں واضح کیا تھا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت شراب اور دیگر منشیات کو استعمال کرتی ہے۔ اس مکتوب کا الیکشن کمیشن نے تقریبا ایک ماہ کے بعد معذرت کی صورت میں جواب دیا ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر(الیکشن ) عاطف رحیم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں کہا ہے کہ منشیات اور الکحل کے لیے کسی ٹیسٹ کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ چونکہ الیکشن کمیشن قانون سازی نہیں کرسکتا اس لیے اس ٹیسٹ کے لیے مناسب فورم سے رجوع کیا جائے ۔ درخواست گزار نثار احمد شیخ نے ڈپٹی ڈائریکٹر (الیکشن) عاطف رحیم کے جواب میں واضح کیا ہے کہ اس کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے لیے پہلے سے ہی آئین میں حکم موجود ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 62 کی کلازC کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہو اور اس کی شہرت ایسی نہ ہو کہ وہ اسلامی شعائر کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ اسی آرٹیکل 62 کی کلاز D کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے کو اسلامی تعلیمات کی موزوں و مناسب معلومات رکھتا ہو اور گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔ نثار احمد شیخ نے کہا ہے کہ شراب پینا اورمنشیات کا استعمال آئین کے آرٹیکل 62 کے خلاف ہے اس لیے شراب اور منشیات کے استعمال کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے ۔

نثار احمد شیخ نے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار سے بھی اس معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قانون سازی کس طرح شرابی ، زانی اور منشیات استعمال کرنے والوں کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں صدر پاکستان ممنون حسین سے بھی مداخلت کی اپیل کے لیے انہیں مکتوب بھیجا ہے ۔



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…